برکس سربراہی اجلاس 2026 کے لیے نئی دہلی میں سکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر میں مختلف مقامات کو پوسٹروں، روشنیوں اور دیگر چیزوں سے سجایا گیا ہے، جبکہ اہم علاقوں میں سکیورٹی اور نقل و حرکت کے انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ برکس سربراہی اجلاس 11 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہوگا، جبکہ سربراہانِ مملکت کی مرکزی ملاقاتیں 11 اور 13 ستمبر کو ہوں گی۔
برکس سربراہی اجلاس 2026 کا سرکاری موضوع "تعمیر برائے لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری" ہے۔
برکس کا آغاز برازیل، روس، بھارت اور چین کے اتحاد کے طور پر ہوا تھا۔ اس گروپ نے 2006 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ 2009 میں روس کے شہر یکاترینبرگ میں پہلا سربراہی اجلاس ہوا، جبکہ 2011 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد گروپ کا نام 'BRICS' ہوگیا۔
جنوری 2024 میں مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مکمل رکن کے طور پر شامل کیا گیا، جبکہ جنوری 2025 میں انڈونیشیا بھی اس گروپ کا رکن بن گیا۔ دہلی ٹریفک پولیس نے سربراہی اجلاس کے دوران ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے تفصیلی منصوبہ تیار کیا ہے۔ اجلاس میں سربراہانِ مملکت، غیر ملکی مندوبین، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اور اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ٹریفک) دینیش کمار گپتا کے مطابق غیر ملکی مندوبین کی آمدورفت کو آسان بنانے اور عوام کو کم سے کم پریشانی کا سامنا ہو، اس کے لیے دہلی میں سکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس اہلکار مختلف مقررہ راستوں پر وی آئی پی گاڑیوں کے قافلوں کی ریہرسل کر رہے ہیں اور اہلکاروں کو ٹریفک انتظامات کے بارے میں بریفنگ بھی دی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس نے 22 ڈائیورژن پوائنٹس کی نشاندہی کی ہے، جہاں ضرورت کے مطابق ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف موڑا جائے گا۔ اس کے علاوہ 35 سے زائد سڑکوں پر ٹریفک کو کنٹرول یا محدود کیا جائے گا۔ یہ پابندیاں خاص طور پر جنوبی دہلی کے علاقوں اور ان راستوں پر اثر انداز ہوں گی جہاں سے وی آئی پی قافلے گزریں گے۔ قافلوں کی آمدورفت کے دوران بعض مقامات پر ٹریفک کو عارضی طور پر روکا بھی جا سکتا ہے۔
دہلی ٹریفک پولیس نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے اپنے راستے کی منصوبہ بندی کریں اور جہاں ممکن ہو متبادل راستوں اور عوامی ٹرانسپورٹ، خاص طور پر دہلی میٹرو، کا استعمال کریں۔ ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کے لیے بھی متبادل راستے تجویز کیے گئے ہیں۔دہلی ٹریفک پولیس 'BRICS' اجلاس کے دوران ڈرونز کے ذریعے ٹریفک کی نقل و حرکت اور سڑکوں پر بھیڑ کی نگرانی کرے گی۔ اس سے ٹریفک جام کی فوری نشاندہی اور انتظام میں مدد لی جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق میٹرو سروسز معمول کے مطابق چلتی رہیں گی، جبکہ وی آئی پی قافلوں کی آمدورفت کے دوران بسوں کے راستوں میں عارضی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ٹیکسیاں اور آٹو رکشے چل سکیں گے، سڑک کے کنارے پارکنگ پر پابندی ہوگی، سوائے مقررہ مقامات کے۔ ایمرجنسی اور طبی گاڑیوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ضروری خدمات بھی جاری رہیں گی۔ دہلی ٹریفک پولیس نے نیویگیشن اور کیب سروس پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطہ کیا ہے تاکہ 'BRICS 'کے دوران ٹریفک ڈائیورژن اور راستوں کی معلومات لوگوں کو ان ایپس کے ذریعے بھی مل سکیں۔
دہلی پولیس نے غازی آباد اور نوئیڈا پولیس کے ساتھ بین ریاستی رابطہ اجلاس کیا ہے۔ اس میں سرحدی نگرانی، سکیورٹی چیک، انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ، ٹریفک انتظام، ہنگامی صورتحال اور اہم شخصیات کی آمدورفت پر توجہ دی گئی۔
تازہ سکیورٹی انتظامات کے تحت غیر ملکی سربراہانِ مملکت اور اعلیٰ سطحی وفود کے قیام والے 11 ہوٹلوں کو ہائی سکیورٹی زون قرار دیا گیا ہے۔ وہاں نیشنل سکیورٹی گارڈز یعنی 'NSG' کے کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔ تقریباً 100 گاڑیوں پر مشتمل سکیورٹی قافلہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
'BRICS' سربراہی اجلاس کے انتظامات اور ٹریفک دباؤ کے پیش نظر 11 ستمبر کو دہلی کے اسکولزمیں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
دہلی پولیس نے اجلاس کے دوران سکیورٹی کے پیش نظر غیر ملکی رہنماؤں اور مندوبین کے قیام کے لیے مقرر کیے گئے ہوٹلوں اور اہم راستوں کے اطراف بھی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔