امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی بعض مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ کئی دیگر اشیا پر 50 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے احکامات کے تحت کینیڈا کی بعض ڈیری مصنوعات، مختلف الکوحل مشروبات اور موٹر سائیکلوں کی امریکہ درآمد 29 ستمبر سے روک دی جائے گی۔
اس کے علاوہ کینیڈا کی مختلف مصنوعات، جن میں کچھ پنیر، اسٹیل اور ایلومینیم کی اشیا، گالف کارٹس اور بعض فرنیچر شامل ہیں، 15 ستمبر سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے تابع ہوں گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدامات کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امریکی کاروبار اور پیداوار کا تحفظ کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں برابری قائم کرنا ہے۔
یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کینیڈا نے 8 ستمبر سے 27.6 ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک جوابی ٹیرف نافذ کیے ہیں۔ ان میں اسٹیل، ڈیری، برقی آلات، زرعی سامان، کاغذ اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ کینیڈا کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ امریکی محصولات کے جواب میں اقدامات کرنے سے تجارتی تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔
کینیڈا سے الکوحل مشروبات کی درآمد پر پابندی کے جواز میں صدر ٹرمپ نے امریکی شراب اور دیگرالکوحل مصنوعات کے خلاف کینیڈا کے بعض صوبوں میں کیے گئے بائیکاٹ کا حوالہ دیا۔ امریکی محصولات میں اضافے کے بعد کینیڈا کے کئی صوبوں میں امریکی شراب اور اسپرٹس کو اسٹورز سے ہٹا دیا گیا تھا۔
اس سے قبل منگل کو صدر ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا امریکی کسانوں اور کمپنیوں کے لیے مکمل اور منصفانہ مارکیٹ رسائی بحال نہیں کرتا تو کینیڈین مصنوعات کو امریکی حکومت کے خریداری پروگرام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حکام کو کینیڈا میں تیار ہونے والی مصنوعات کو جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (GSA) کے متعدد طویل مدتی معاہدوں اور خریداری کے شیڈولز سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق ان پروگراموں میں سالانہ 50 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی خریداری شامل ہے۔تازہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کینیڈین طیارہ ساز کمپنی 'Bombardier' کے طیاروں کی امریکہ میں فروخت روکنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ تجارتی تنازع کو مزید بڑھانے والا نیا قدم ہے۔
امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق بعض کینیڈین الکوحل مشروبات کی درآمد پر پابندی 29 ستمبر 2026 سے نافذ ہوگی۔ اسی طرح بعض کینیڈین ڈیری مصنوعات بھی اس پابندی کے دائرے میں شامل ہیں
امریکی تجارتی وکیل رائن میجرس کے مطابق اگر امریکہ کینیڈا کی مصنوعات کو اپنی سرکاری خریداری سے نکال دیتا ہے، تو اس کا نقصان صرف نئے ٹیکس (ٹیرف) لگانے سے ہونے والے نقصان تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے زیادہ بڑے تجارتی اثرات ہو سکتے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا امریکہ پر اپنے معاشی انحصار کو کم کرنے اور یورپی یونین سمیت دوسرے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے طویل مدت میں امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک کو برآمدات بڑھانے کا ہدف بھی پیش کیا ہے۔
یہ تازہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور باہمی جوابی محصولات کے باعث تجارتی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔