انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نےکرناٹک کے پی ڈبلیو ڈی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر Satish Laxmanrao Jarkiholi سے منسلک احاطوں پر بڑی کارروائی شروع کی۔ ای ڈی کی ٹیمیں کرناٹک کے بنگلورو اور بیلگاوی کے علاوہ مہاراشٹر میں تقریباً 18 مقامات پر تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام کے مطابق، تلاشی کی کارروائی میں بنگلورو کی ڈالرس کالونی میں واقع ستیش جارکی ہولی کی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔ صبح کے وقت ای ڈی کے افسران سی آر پی ایف اہلکاروں کے ساتھ دو گاڑیوں میں وزیر کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے، جس کے بعد احاطے میں تلاشی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ابھی تک ای ڈی کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ تلاشی کے دوران کوئی اہم دستاویز، رقم یا دیگر مواد برآمد ہوا ہے یا نہیں۔
ای ڈی ذرائع کے مطابق، کارروائی کا دائرہ صرف ستیش جارکی ہولی تک محدود نہیں ہے۔ ان کی بیٹی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا جارکی ہولی سے منسلک احاطوں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ایجنسی بنگلورو، بیلگاوی اور مہاراشٹر میں مختلف مقامات پر دستاویزات اور دیگر مواد کی جانچ کر رہی ہے۔ Satish Laxmanrao Jarkiholi کرناٹک حکومت میں پی ڈبلیو ڈی وزیر ہیں اور کانگریس کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا قریبی ساتھی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان اور ان کے خاندان سے منسلک مقامات پر ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ای ڈی کی موجودہ کارروائی کو 24 جون کو بیلگاوی میں کی گئی تلاشی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس وقت ایجنسی نے وائی منجوناتھ کی رہائش گاہ سمیت ان سے منسلک کچھ دیگر مقامات کی تلاشی لی تھی۔ وائی منجوناتھ محکمہ ایکسائز میں ایڈیشنل کمشنر رہ چکے ہیں اور ستیش جارکی ہولی کے بہنوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، اس وقت کی کارروائی مبینہ طور پر بیرون ملک رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ایک معاملے کی تحقیقات کا حصہ تھی۔ ای ڈی نے بنگلورو کے علاوہ میسور اور ارسیکیرے (Arsikere) میں بھی منجوناتھ کے قریبی ساتھیوں سے منسلک املاک کی جانچ کی تھی۔
وائی منجوناتھ بلاری کے سابق رکن پارلیمنٹ دیویندرپا کے بیٹے ہیں۔ ان کی اہلیہ ستیش جارکی ہولی، بی جے پی رکن اسمبلی رمیش جارکی ہولی اور بالاچندر جارکی ہولی کی بہن ہیں۔ فی الحال ای ڈی کی تلاشی کارروائی جاری ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ایجنسی کو تحقیقات کے دوران کون سے دستاویزات یا دیگر شواہد حاصل ہوئے اور اس معاملے میں آگے کیا قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔