آسام اسمبلی کے انتخابات اس سال ہونے والے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، ریاست میں سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے۔ اس دوران چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما نے مسلمانوں کے بارے میں ایک جارحانہ بیان دیا۔ اس بیان نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ہمنتا بسوا سرما کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس میں وہ واضح طور پر یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ "میاں" کمیونٹی کو ہراساں کیا جائے تاکہ وہ آسام چھوڑنے پر مجبور ہوں۔ مزید برآں، وائرل ویڈیو میں، وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں یا ہوں گے۔
آسام کے سی ایم ہمنت بسوا سرما نے اپنے بیان میں مسلمانوں کو ہراساں کیسے کیا جائے اسکی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر رکشہ کا کرایہ پانچ روپے ہے، تو صرف چار روپے ہی دیں۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس بیان کے بعد ہنگامہ مچ گیا ہے، لوگ مسلسل آسام کے سی ایم کی تنقید کر رہے ہیں اور حزب اختلاف انہیں آئین کی پاسداری کی اپنی حلف کی یاد دلا رہا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف اقلیتوں کو ڈرانے کی کوشش ہے بلکہ معاشرے کو تقسیم کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے۔
وہیں یوپی ایم آئی ایم کے صدر شوکت علی نے آسام سی ایم کے اس بیان کے رد عمل میں کہا کہ ؛میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ہندو بھائی چاہے وہ رکشہ والا ہو یا پنکچر ٹھیک کرنے والا، آپ سے 10 روپے مانگے تو اسے 11 روپے دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کسی کے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف کا حملہ:
کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے ان بیانات کی سخت مذمت کی ہے اور الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی سے آسام کے سماجی اتحاد اور امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف غصہ نظر آرہا ہے۔ بہت سے صارفین نے ان بیانات کو "نفرت انگیز تقریر" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عام مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ بڑھے گا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی کمیونٹی کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا جمہوری اقدار اور آئین کی روح کے خلاف ہے۔
ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز تقاریر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ زہر پہلے ہندو تنظیموں تک محدود تھا لیکن جب کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ کھلے عام مسلمانوں کے خلاف ایسے بیانات دیتا ہے تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کسی خاص برادری کےلیے ہے ،اور دوسری برادری کو کمزور کیا جا رہا ہے۔آسام سی ایم کے اس بیان سے بے گناہ مسلمان تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں۔