یوکرین میں جاری جنگ اور شدید سردی کے درمیان جنگ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ عارضی طور پر روس یوکرین پر حملے نہیں کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انسانی بنیادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے درخواست کی ہے کہ کم از کم ایک ہفتے تک یوکرین کی دارالحکومت کیئف سمیت دیگر شہروں پر حملے نہ کیے جائیں، تاکہ انتہائی سردی کے اس دور میں عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔امریکی صدر نے اس پیش رفت کو یوکرین کے لیے ایک بڑی خوشخبری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے ایک مخصوص مدت کے لیے فائرنگ اور عسکری کارروائیاں روکنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ کیبنٹ میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر صدر پوتن سے گزارش کی ہے کہ شدید سردی کے اس موسم میں کیئف اور دیگر شہروں اور قصبوں پر ایک ہفتے تک حملے نہ کیے جائیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس یوکرین کے بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں بڑی تعداد میں لوگ بجلی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صدر پوتن ان کی اس درخواست پر متفق ہو گئے ہیں۔ تاہم، اس سلسلے میں روس کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک
اسی دوران جمعرات کو یوکرینی حکام نے بتایا کہ روس کی طرف سے جنوبی زاپوریژیا علاقے میں رات کے وقت کیے گئے ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ حملے میں ایک اپارٹمنٹ عمارت کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی۔
روس بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے: زیلنسکی
اس سے قبل یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ روس ایک اور بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق روس بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے لیے ہتھیار اور وسائل جمع کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے یہ بھی یاد دلایا کہ حال ہی میں روس نے یوکرین پر تقریباً 800 ڈرونز، کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جس میں ملک کی پاور گرڈ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ تمام واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔