پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق کرکٹ کپتان عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی سلامتی کو لے کر پاکستانی حکومت پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت ان کے والد کو جیل میں مناسب تحفظ فراہم نہیں کر رہی بلکہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، قاسم اور سلیمان نے عمران خان کی جیل میں موجودہ صورتحال اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد ایک طویل عرصے سے قید ہیں اور ان کی جان اور صحت کے حوالے سے خدشات مسلسل برقرار ہیں۔
عمران خان کی سیاسی مشکلات کا آغاز اپریل 2022 میں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرفی کے بعد ہوا، جس کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ ان کے حامیوں اور پاکستان تحریک انصاف کا مسلسل الزام رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائیاں سیاسی انتقام کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمات کو قانونی کارروائی کا حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ قاسم اور سلیمان، عمران خان اور ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے بیٹے ہیں۔ دونوں طویل عرصے سے پاکستان میں اپنے والد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تازہ الزامات نے ایک بار پھر عمران خان کی قید، ان کی صحت اور جیل میں سیکیورٹی کے معاملے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
عمران خان نہ صرف پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں بلکہ ملک کے سب سے معروف کرکٹرز میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 1992 میں اپنا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بالآخر پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ عمران خان کے بیٹوں کے تازہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کی طویل قید کے باعث ان کے حامیوں اور خاندان کی جانب سے ان کی رہائی اور بہتر سہولیات کے مطالبات جاری ہیں۔ تاہم، حکومت پر لگائے گئے قتل کی کوشش کے الزامات کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں نہیں ہوئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی حکومت ان سنگین الزامات پر کیا ردعمل دیتی ہے اور عمران خان کی جیل میں سیکیورٹی اور صحت سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔