Friday, August 28, 2026 | 13 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پوتن اور نیٹو پر ٹرمپ کا اہم بیان، روسی حملے کا خدشہ مسترد

پوتن اور نیٹو پر ٹرمپ کا اہم بیان، روسی حملے کا خدشہ مسترد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 28, 2026 IST

پوتن اور نیٹو پر ٹرمپ کا اہم بیان، روسی حملے کا خدشہ مسترد
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر  ولادیمیر پوتن نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کے اچانک روس کے دورے کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
 

ٹرمپ نے پوتن پر اعتماد کا اظہار کیا

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا روس مستقبل میں کسی نیٹو رکن ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے پوتن سے اچھی بات چیت کی ہے اور ان کے خیال میں روسی صدر نیٹو کے کسی علاقے پر حملہ نہیں کریں گے۔
 

سی آئی اے سربراہ کے اچانک روسی دورے پر سوالات

اس معاملے میں سب کی توجہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ماسکو کے اچانک دورے پر ہے۔ ریٹکلف نےموجودہ ہفتے روس کا دورہ کیا تھا۔
امریکی میڈیا کی کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد روس کو نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کرنے سے خبردار کرنا تھا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی انٹیلیجنس کو خدشہ ہے کہ روس مستقبل میں کسی نیٹو ملک کے خلاف محدود فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔ ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
 

روس نے امریکی میڈیا کی رپورٹس مسترد کر دیں

کریملن نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور خوف پھیلانے والی کہانیاں قرار دیا ہے۔روسی صدر کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا کہ امریکی میڈیا میں آنے والی ایسی رپورٹس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ سرگئی نارشکین نے بھی ریٹکلف سے ملاقات کی تصدیق کی، لیکن کہا کہ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ ان کے مطابق دونوں حکام نےانٹیلیجنس اداروں سے متعلق مختلف معاملات پر بات چیت کی۔
 

ریٹکلف روس جانے والے دوسرے سی آئی اے سربراہ

جان ریٹکلف گزشتہ پانچ سال میں روس کا دورہ کرنے والے دوسرے سی آئی اے ڈائریکٹر ہیں۔ اس سے پہلے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے نومبر 2021 میں ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے کے تقریباً تین ماہ بعد روس نے یوکرین پر مکمل فوجی حملہ شروع کیا تھا۔ اسی وجہ سے ریٹکلف کے موجودہ دورے کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
 
ریٹکلف نے روس کے ساتھ ایران کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے روس کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال نہ ہوئی تو ایران کے خلاف مزید امریکی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
 
ریٹکلف کی ملاقات پیوتن سے نہیں ہوئی۔ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کے مطابق ریٹکلف نے روسی انٹیلیجنس حکام سے ملاقات کی، جبکہ صدر پوتن کو اس ملاقات کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔