نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ بڑھتا ہوا پانی شہروں اور دیہی علاقوں تک پہنچ گیا، جبکہ تبت کے علاقے سے آنے والے سیلابی ریلوں نے پلوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ کئی علاقوں میں گاڑیوں اور ٹرکوں کو تیز پانی کے بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس تباہ کن سیلاب میں اب تک 469 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ لاپتہ افراد میں کئی غیر ملکی اور ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال کے اس سانحے میں 288 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ اب تک 21 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ بچا لیا گیا ہے، جن کا تعلق تمل ناڈو سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تبت میں موجود تقریباً 200 ہندوستانی شہریوں نے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ نیپال کو اس قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
دریں اثنا، دی کھٹمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کیلاش مانسروور یاترا کے لیے جانے والے تقریباً 400 یاتریوں سے رسوا گڑھی کے علاقے میں رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ کھٹمنڈو میں قائم ایک ٹریول کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر باشو کمار ادھیکاری کے مطابق 390 زائرین، جن میں 93 نیپالی شہری بھی شامل تھے، بدھ کے روز سرحد پار کرنے والے تھے، تاہم دوپہر کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ نیپال کی ٹریکنگ ایجنسیز ایسوسی ایشن کے صدر ساگر پانڈے نے کہا کہ لاپتہ یاتریوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی موجودہ صورتحال معلوم کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
حکام کے مطابق شمالی نیپال میں دریائے بھوٹے کوشی میں صبح تقریباً 9 بجے اچانک پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ تبت کی سمت سے آنے والے پانی نے ضلع رسووا کے تیمور اور قریبی سیفروبیسی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ رسووا، نوواکوٹ، دھاڈنگ، چتوان اور گورکھا کے دریا کنارے رہنے والے لوگوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب چین کے علاقے ژیزانگ میں گیئرونگ سرحدی بندرگاہ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کے بعد امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس وقت نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانا سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔