Friday, August 28, 2026 | 13 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • رکھشا بندھن پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ملک و بیرون ملک ہندوستانیوں کو مبارکباد

رکھشا بندھن پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ملک و بیرون ملک ہندوستانیوں کو مبارکباد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 28, 2026 IST

رکھشا بندھن پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ملک و بیرون ملک ہندوستانیوں کو مبارکباد
بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد اور تحفظ کے خاص رشتے کا تہوار رکھشا بندھن آج ملک بھر میں عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی باندھ کر ان کی سلامتی اور خوشحالی کی دعا کرتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت اور ساتھ نبھانے کا عہد کرتے ہیں۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے رکھشا بندھن کے پرمسرت موقع پر ملک اور بیرون ملک مقیم تمام ہندوستانیوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ رکھشا بندھن ہندوستانی ثقافت اور قدیم روایات کا ایک اہم اور اٹوٹ حصہ ہے۔
 
صدر جمہوریہ نے کہا کہ کلائی پر عقیدت اور محبت کے ساتھ باندھا جانے والا راکھی کا دھاگا محض ایک رسم نہیں بلکہ تحفظ، اعتماد اور باہمی وابستگی کی علامت ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس تہوار کے جذبے کو صرف بھائی بہن کے رشتے تک محدود نہ رکھیں بلکہ خاندانوں اور برادریوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کریں۔ دروپدی مرمو نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو اتحاد اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ایک مضبوط و ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
 
دوسری جانب، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بھی رکھشا بندھن کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس تہوار کو محبت، اعتماد اور خاندانی رشتوں کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں رکھشا بندھن کے موقع پر خصوصی رونق دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بازاروں میں رنگ برنگی راکھیوں اور مٹھائیوں کی خریداری جاری ہے، جبکہ گھروں میں بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی باندھ کر ان کی لمبی عمر اور کامیابی کی دعائیں کر رہی ہیں۔
 
رکھشا بندھن صرف ایک تہوار نہیں بلکہ محبت، تحفظ اور رشتوں کی مضبوطی کا پیغام بھی دیتا ہے، جو خاندان سے لے کر پورے معاشرے میں باہمی احترام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی یاد دلاتا ہے۔