Friday, August 28, 2026 | 13 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • نیپال سیلاب میں 469 افراد ہلاک، 1400 سے زائد لاپتہ

نیپال سیلاب میں 469 افراد ہلاک، 1400 سے زائد لاپتہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 28, 2026 IST

نیپال سیلاب میں 469 افراد ہلاک، 1400 سے زائد لاپتہ
 

لاپتہ افراد میں بھارتی شہری بھی شامل

نیپالی حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں 30 سے زیادہ ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ان میں 288 بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 73 افراد ایک پاور پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارت نیپال کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور لاپتہ بھارتی شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے نیپالی حکام کی مدد کر رہا ہے۔
 

چین میں بھی تین افراد ہلاک

اس سیلاب اور قدرتی آفت کا اثر چین کے تبت علاقے میں بھی دیکھا گیا، جہاں سرکاری میڈیا کے مطابق تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چینی حکام نے 499 مقامی افراد اور 555 سیاحوں کو متاثرہ علاقے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔امدادی کاروائیوں میں سب سے بڑی مشکل راستوں کی تباہی ہے۔ کئی علاقوں تک سڑک کے ذریعے پہنچنا ممکن نہیں، اس لیے فوج اور امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔
 

مزید سیلاب کا خطرہ

چینی حکام نے ایک اور ممکنہ خطرے سے خبردار کیا ہے۔ بدھ کو مٹی کے تودے گرنے کے بعد ایک جھیل بن گئی تھی، جس میں مسلسل بارش کے باعث پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ حکام کے مطابق اگلے تین دن تک شدید بارش کا امکان ہے۔ اس کے باعث جھیل سے پانی باہر نکلنے اور نیچے واقع علاقوں میں مزید سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔ پہاڑی جغرافیہ کے ماہر ایلٹن بائرز کے مطابق، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں جمی ہوئی زمین کمزور اور غیر مستحکم ہو رہی ہے، جس سے ایسے قدرتی حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جھیل میں پانی کی آمد اگلے تین دنوں میں تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے گییرونگ رپورٹ اور آس پاس کے علاقوں میں مزید نقصان کا خدشہ ہے۔
 

سیلاب کی وجہ جاننے کی کوشش

اب یہ بات زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ تباہی کی وجہ صرف سیلاب نہیں تھی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا کہ تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر ایک گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے گرا، جس کے ساتھ چٹانیں اور مٹی بھی نیچے آئیں۔ اس کے بعد دریا کا راستہ عارضی طور پر بند ہوا اور پھر پانی کا شدید ریلہ نیچے کی طرف آیا۔ امدادی کارکن جہاں زندہ بچ جانے والوں اور لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں، وہیں سیلاب کی اصل وجہ جاننے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اس تباہی کی وجہ زلزلہ ہو سکتا ہے، امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں بتایا کہ سیلاب ایک بڑے برفانی تودے کے گرنے کے بعد آیا تھا۔تباہی سے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تقریباً 19 پل اور 40 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں، جبکہ کئی گاؤں اور بجلی کے منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
 

موسمیاتی تبدیلی کا بھی جائزہ

 یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی اس قدرتی آفت کی شدت میں کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے برف، مٹی اور چٹانوں کو ایک ساتھ مضبوط رکھنے والی منجمد زمین کمزور ہو رہی ہے، جس سے ایسے علاقوں میں قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ فی الحال نیپال میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور حکام لاپتہ افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔
 

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

ابتدائی طور پر 27 اگست کو سامنے آنے والی رپورٹس میں نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر 392 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی۔امدادی کاروائیوں کے دوران مزید لاشیں ملنے کے بعد نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے۔ نیپال پولیس نے 28 اگست کو یہ تازہ اعداد و شمار جاری کیے۔ اس کے علاوہ 1400 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔