• News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • انگلینڈ کے دورے پر ورلڈ چیمپئن ٹیم کی ناکامی، حکمت عملی پر اٹھنے لگے سوالات

انگلینڈ کے دورے پر ورلڈ چیمپئن ٹیم کی ناکامی، حکمت عملی پر اٹھنے لگے سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 10, 2026 IST

انگلینڈ کے دورے پر ورلڈ چیمپئن ٹیم کی ناکامی، حکمت عملی پر اٹھنے لگے سوالات
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے چند ہی ہفتوں بعد ہندوستانی ٹیم کا انگلینڈ کا دورہ مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ عالمی چیمپئن ہونے کے باوجود ٹیم اب تک ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی، جس کے بعد کپتان شریاس ائیر اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مسلسل ناکامیوں نے ٹیم کے انتخاب، تیاری اور منصوبہ بندی کو شدید تنقید کی زد میں لا دیا ہے۔
 
انگلینڈ کی باؤنسی اور سوئنگ ساز وکٹوں پر ہندوستانی بیٹنگ لائن اپ بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ٹاپ آرڈر بلے باز ابتدا ہی سے مشکلات کا شکار رہے اور آئرلینڈ کے دورے میں سامنے آنے والی کمزوریاں انگلینڈ میں بھی برقرار رہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیم کو مقامی حالات کے مطابق مناسب تیاری نہیں کرائی گئی، جس کی وجہ سے کھلاڑی انگلش کنڈیشنز میں خود کو ڈھالنے میں ناکام رہے۔
 
ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر آئرلینڈ کے خلاف سیریز میں کمزوریاں واضح ہو گئی تھیں تو ٹیم انتظامیہ نے ان سے سبق کیوں نہیں سیکھا؟ پلیئنگ الیون کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نوجوان فاسٹ بولر پرنس یادیو کو آئرلینڈ میں موقع دینے کے بعد انگلینڈ سیریز میں باہر بٹھا دیا گیا، جبکہ واشنگٹن سندر مسلسل ٹیم کا حصہ رہے، حالانکہ وہ نہ گیند سے مؤثر ثابت ہوئے اور نہ ہی بلے سے کوئی خاص کردار ادا کر سکے۔ اسی طرح تلک ورما کے کردار پر بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔
 
سنجو سیمسن کو ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ورلڈ کپ میں تین اہم نصف سنچریاں کھیلنے اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے سنجو صرف تین ناکام اننگز کے بعد پلیئنگ الیون سے باہر کر دیے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر خود ان کی حمایت کرتے ہوئے کہہ چکے تھے کہ انہیں طویل عرصے تک مواقع دیے جائیں گے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب دیگر کھلاڑی مسلسل ناکامیوں کے باوجود ٹیم میں برقرار رہ سکتے ہیں تو سنجو سیمسن کو مزید مواقع کیوں نہیں دیے گئے۔
 
نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں مستقبل کا باصلاحیت کھلاڑی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انگلینڈ کے خلاف وہ خاطر خواہ کارکردگی پیش نہ کر سکے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سوریاونشی کو پہلے آئرلینڈ کے خلاف مناسب مواقع ملتے تو وہ انگلینڈ کی سخت کنڈیشنز کے لیے زیادہ بہتر انداز میں تیار ہو سکتے تھے۔
 
مجموعی طور پر انگلینڈ کے دورے نے ٹیم انڈیا کی تیاری، ٹیم سلیکشن اور کوچنگ حکمت عملی پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جوابات آئندہ سیریز میں بہتر کارکردگی کے ذریعے ہی دیے جا سکتے ہیں۔