اسپین میں شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث بھڑکنے والی جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف علاقوں میں پھیلنے والی آگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق آگ نے جنگلات کے ساتھ ساتھ کئی رہائشی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ہزاروں افراد کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ متعدد دیہات اور رہائشی بستیوں کو خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد کے لیے عارضی رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہے۔
آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس، ہنگامی امدادی ٹیمیں اور فضائی امدادی یونٹس مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ تاہم شدید گرمی، کم نمی اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے نئے علاقوں میں پھیل رہی ہے، جس سے ریسکیو اور آگ بجھانے کی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موسمی حالات آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر دھواں اور آگ کی شدت کے باعث سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔
اسپین کی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں اور متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ حکام نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی مالی اور انسانی امداد کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات اور حفاظتی مشوروں پر عمل کریں۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی اور خشک موسم کے برقرار رہنے کی صورت میں آئندہ چند دنوں تک جنگلاتی آگ کا خطرہ بدستور موجود رہ سکتا ہے۔