انڈونیشیا کے فلورس میں ہفتے کے روز7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیلا دیا۔ زلزلے کے بعد حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے سیکڑوں افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 2 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بج کر 58 منٹ پر آیا۔ اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی، جبکہ مرکز کے نوسا ٹینگارا صوبے کے شہر اینڈے سے تقریباً 68 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق امدادی ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ملبہ ہٹانے اور امدادی کاروائی آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سونامی کا خطرہ
شدید زلزلے کے بعد انڈونیشیا کے حکام نے سونامی الرٹ جاری کیا۔ ابتدائی طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ سمندر میں 0.5 میٹر سے 3 میٹر تک اونچی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں 19 سے 30 سینٹی میٹر تک سونامی کی لہریں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ مشرقی نوسا ٹینگارا، جنوبی سولاویسی اور مغربی نوسا ٹینگارا کے کچھ علاقوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔ فلورس جزیرے کے مومیرے سمیت ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محفوظ اور اونچی جگہوں پر منتقل کیا گیا۔
عمارتوں کو نقصان، لوگوں میں خوف
زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد مقامی لوگوں میں خوف پھیل گیا اور کئی افراد اپنے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ مقامی افراد کے مطابق کچھ عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں، جبکہ بعض مقامات پر عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایک مقامی اسپتال کے ملازم نے بتایا کہ زلزلے کے وقت مریض اور اسپتال کا عملہ بھی گھبرا کر باہر نکل گیا۔ ان کے مطابق جھٹکے اتنے شدید تھے کہ عمارت کی کچھ دیواروں میں دراڑیں نظر آئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی زلزلے کے بعد کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں، جن میں متاثرہ علاقوں اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام ویڈیوز اور دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
انڈونیشیا میں زلزلے کیوں آتے ہیں؟
انڈونیشیا بحرالکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ میں واقع ہے۔ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں کئی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، جس کی وجہ سے یہاں زلزلے اور آتش فشاں سرگرمیاں عام ہیں۔ ملک کی تاریخ میں سب سے تباہ کن زلزلوں میں سے ایک 2004 میں آیا تھا۔ سماٹرا کے قریب 9.1 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک تباہ کن سونامی پیدا ہوئی تھی، جس نے بحر ہند کے کئی ممالک کو متاثر کیا اور مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سونامی وارننگ اب ختم کر دی گئی ہے۔ ابتدائی وارننگ کے تقریباً تین گھنٹے بعد اسے واپس لے لیا گیا، کیونکہ خطرناک سطح کی سونامی لہریں نہیں آئیں۔ مختلف علاقوں میں ایک میٹر سے کم اونچی لہریں ریکارڈ ہوئیں۔زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاکس آئے، جن میں ایک کی شدت 6.1 تک ریکارڈ کی گئی۔ اس وجہ سے متاثرہ علاقوں میں مزید نقصان کا خدشہ برقرار رہا۔
تقریباً 2,000 افراد اپنے گھر چھوڑ کر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہوئے۔ خاص طور پر "Nagekeo" کے علاقے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے محفوظ مقامات کا رخ کیا۔ زلزلے سے عمارتوں کے علاوہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ بعض علاقوں میں بجلی بند ہوگئی، ٹریفک متاثر ہوئی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث "Trans-Flores Highway" کے کچھ حصے بند ہوگئے، جس سے امدادی کاروائیوں میں مشکلات پیدا ہوئیں
اسپتالوں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ کچھ اسپتالوں نے مریضوں کو عمارتوں سے باہر منتقل کیا کیونکہ زلزلے سے عمارتوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ ہلاکتیں ایک ہی علاقے تک محدود نہیں رہیں۔ زیادہ تر اموات "Maumere" کے آس پاس رپورٹ ہوئیں، جبکہ مختلف مقامات پر مکانات اور عمارتیں منہدم ہونے سے مزید لوگ متاثر ہوئے۔