Tuesday, February 03, 2026 | 15, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت رد عمل،ہم کسی دھمکی کے تحت ڈیل قبول نہیں کریں گے

امریکہ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت رد عمل،ہم کسی دھمکی کے تحت ڈیل قبول نہیں کریں گے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 03, 2026 IST

امریکہ  کی دھمکیوں پر ایران کا سخت رد عمل،ہم کسی  دھمکی کے تحت ڈیل قبول نہیں کریں گے
ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ سے جاری تناؤ کے بیچ، امریکی صدر نے ایران کو متعدد بار دھمکی دی ہے کہ اگر ایران ڈیل نہ کرے تو فوجی کاروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ایران نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن کسی دھمکی کے تحت ڈیل قبول نہیں کرے گا بلکہ عزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرے گا۔
 
اب ایران کے صدر مسعود پزشکیاننے منگل (3 فروری 2026) کو ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچیکو امریکہ کے ساتھ "منصفانہ اور برابر" بات چیت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ایران کی طرف سے پہلا واضح اشارہ ہے کہ وہ ترکی کی میزبانی میں ہونے والی ممکنہ بات چیت میں شرکت کر سکتا ہے۔
 
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل پر بات چیت کریں، بشرطیکہ مناسب ماحول موجود ہو جو دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے پاک ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت عزت، حکمت عملی اور مصلحت کے اصولوں پر مبنی ہو، اور یہ ایران کے قومی مفادات کے دائرے میں ہو گی۔
 
یہ بیان علاقائی دوست ممالک کی درخواستوں کے جواب میں آیا ہے جو امریکہ کے صدر کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پر ایران سے مثبت جواب چاہتے ہیں۔ تاہم امریکہ نے ابھی تک ترکی کی میزبانی میں ہونے والی اس ممکنہ میٹنگ میں شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
 
واضح رہے کہ امریکہ ایران پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے اور اس نے علاقے میں ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکنبھیج دیا ہے۔ ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
 
ایران کے صدر کا یہ بیان تناؤ میں کمی کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جہاں ترکی، قطر اور دیگر ممالک ثالثی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر جمعہ کو استنبول میں امریکی ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات ہو سکتی ہے، لیکن حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے۔