• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران تنازع کے بعد ایل پی جی بحران، حکومت کا بڑا فیصلہ

ایران تنازع کے بعد ایل پی جی بحران، حکومت کا بڑا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 07, 2026 IST

ایران تنازع کے بعد ایل پی جی بحران، حکومت کا بڑا فیصلہ
ایران میں جاری تنازع کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان سمیت کئی ممالک میں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے بحران سے نمٹنے کیلئے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایل پی جی کے بجائے پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشن کو ترجیح دیں۔
 
مرکزی حکومت نے خاص طور پر مہاجر مزدوروں کو راحت فراہم کرتے ہوئے 5 کلوگرام فری ٹریڈ ایل پی جی (FTL) سلنڈروں کی یومیہ سپلائی کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اضافی سلنڈر ریاستی حکومتوں اور ان کے فوڈ اینڈ سول سپلائی محکموں کو فراہم کیے جائیں گے، جو تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے تعاون سے براہ راست مزدوروں میں تقسیم کریں گے۔
 
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہاجر مزدوروں کیلئے کھانا پکانے کے ایندھن کی آسان دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی یومیہ فروخت 100,000 یونٹس سے تجاوز کر جائے گی۔ وزارت پٹرولیم کے اعداد و شمار کے مطابق 23 مارچ سے اب تک تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار ایسے سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں۔
 
وزارت پٹرولیم نے وضاحت کی ہے کہ 5 کلوگرام کے یہ چھوٹے سلنڈر مارکیٹ ریٹ پر دستیاب ہیں اور انہیں خریدنے کیلئے صارفین کو پتہ کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، جو کہ مہاجر مزدوروں کیلئے ایک بڑی سہولت ہے۔ اس کے برعکس گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کیلئے عام طور پر دستاویزی تقاضے ضروری ہوتے ہیں۔
 
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی مجموعی سپلائی میں کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایک ہی دن میں 51 لاکھ سے زائد گھریلو سلنڈر فراہم کیے گئے، جبکہ تقریباً 95 فیصد طلب آن لائن بکنگ کے ذریعے پوری کی گئی۔
 
دوسری جانب انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی تیز کر دی ہے۔ مارچ سے اب تک 50 ہزار سے زائد سلنڈر ضبط کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو 1400 سے زیادہ شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور 36 ڈیلرشپس کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔حکومت کے ان اقدامات کا مقصد ایک جانب بحران پر قابو پانا ہے تو دوسری جانب عام شہریوں اور مہاجر مزدوروں کو درپیش مشکلات کو کم کرنا بھی ہے۔