امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف 'اقتصادی ڈی ڈے' (Economic D-Day) کے نام سے سخت ترین مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاشی کشیدگی تیز ہو گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس سخت اقدام کے جواب میں ایران نے امریکہ کو اس کی اپنی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کا آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی صرف امریکی انتظامیہ کے داخلی بحرانوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں امریکی معاشی پالیسیوں اور معاشی حالات پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:
" 'اقتصادی ڈی-ڈے' دراصل امریکہ کے اپنے بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جس میں حیران کن قرضے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سود کی لاگت بھی شامل ہے۔ ناکام پالیسیوں کو دوگنا کرنے سے مزید شکست اور ایرانی عوام کی دشمنی بڑھے گی۔ امریکی 'اقتصادی دہشت گردی' عالمی معاشی استحکام کے لیے ایک کھلا خطرہ ہے۔"
امریکی قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا
ایران کے اس ردعمل کے پس منظر میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی وہ حالیہ رپورٹ ہے جس کے مطابق امریکہ کا قومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی خطرناک حد کو پار کر چکا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی یہ مالی صورتحال طویل مدت کے لیے انتہائی غیر پائیدار ہو چکی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکی حکومت کا سالانہ سود کا خرچہ اب ان کے دفاعی اور فوجی بجٹ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ ایران نے اسی معاشی کمزوری کو بنیاد بناتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کی ہے۔
امریکی 'اقتصادی ڈی ڈے' کیا ہے؟
یہ تازہ ترین تنازعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد شروع ہوا جس میں انہوں نے ایران کے معاشی نیٹ ورک کا گھیراؤ کرنے کے لیے تاریخ کے سخت ترین اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اسے "اکنامک ڈی ڈے" قرار دیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد ایران کی تیل کی بین الاقوامی تجارت، نقد رقم کی منتقلی، شیل کمپنیوں (Shell Companies) اور عالمی مالیاتی نیٹ ورکس کی مکمل ناکہ بندی کرنا ہے۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک، کمپنی یا مالیاتی ادارہ ایران سے تجارت کرے گا یا اس کی مدد کرے گا، اسے امریکی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے گا اور سخت ثانوی پابندیوں (Secondary Sanctions) کا سامنا کرنا پڑے گا۔