امیت شاہ نے وندے ماترم کے مکمل ورژن کو سرکاری تقریبات میں گائے جانے کے معاملے پر کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اپنے سیاسی فائدے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے مخصوص لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔امیت شاہ نے تمل ناڈو کے چنگل پٹو میں 31ویں جنوبی زونل کونسل کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کی حالیہ قرارداد پر تنقید کی۔
کانگریس کی 1937 کی قرارداد کا حوالہ
امیت شاہ کے مطابق، کانگریس نے 1937 میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے کی قرارداد منظور کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی فیصلے کی وجہ سے قومی گیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اب بھی اپنی اسی 1937 کی قرارداد پر قائم ہے، جبکہ موجودہ حکومت نے وندے ماترم کے مکمل ورژن کو سرکاری تقریبات میں گانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ کانگریس کی یہ پالیسی ملک کے مفاد کے خلاف ہے اور اسے اب ختم ہونا چاہیے۔
راہول گاندھی اور کانگریس پر بھی تنقید
امیت شاہ نے کانگریس اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کا موجودہ موقف وندے ماترم کے خالق بنکم چندر چٹرجی اور آزادی کی تحریک میں قربانیاں دینے والوں کی توہین کے مترادف ہے۔ شاہ نے کہا کہ کانگریس کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ملک کو اس معاملے پر متحد ہونا چاہیے۔
کانگریس نے کیا فیصلہ کیا؟
بدھ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی یعنی "CWC "کے اجلاس میں پارٹی نے اپنی 1937 کی قرارداد پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس کے مطابق اس کے پارٹی پروگراموں میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند ہی گائے جائیں گے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ 1937 کی قرارداد اچانک نہیں لی گئی تھی بلکہ اس وقت کے کئی بڑے قومی رہنماؤں کی موجودگی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور مولانا ابوالکلام آزاد سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔
بی جے پی اور کانگریس میں نیا سیاسی تنازع
وندے ماترم کے مکمل ورژن کو سرکاری تقریبات میں گانے کے معاملے نے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ کانگریس نے یہ فیصلہ کسی خاص گروہ کو خوش کرنے اور اس کی حمایت یا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے تو کانگریس کو ’نئی مسلم لیگ‘ تک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اپنی 1937 کی قرارداد کا دفاع کر رہی ہے اور اس بات پر قائم ہے کہ اس کے پارٹی پروگراموں میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔ یوں وندے ماترم کا معاملہ اب صرف قومی گیت تک محدود نہیں رہا بلکہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازع بن گیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبیّن نے بھی کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے "نئی مسلم لیگ" قرار دیا اور الزام لگایا کہ پارٹی ووٹوں کے لیے ایسا موقف اختیار کر رہی ہے۔تنازع صرف امیت شاہ کے بیان تک محدود نہیں رہا۔ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بھی کانگریس پر "ووٹ بینک کی سیاست" کا الزام لگایا اور کہا کہ پارٹی کا رویہ مسلم لیگ جیسا ہے۔
کانگریس نے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی 1937 میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل سمیت اہم رہنماؤں کی طرف سے لیے گئے فیصلے پر قائم رہے گی۔ انہوں نے بی جے پی پر وندے ماترم کو سیاسی معاملہ بنانے کا الزام لگایا۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ کانگریس اپنے 1937 کے فیصلے پر قائم ہے، جبکہ بی جے پی اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کا موقف وندے ماترم کی مخالفت نہیں بلکہ تاریخی فیصلے پر مبنی ہے، جبکہ بی جے پی اسے ووٹ بینک کی سیاست سے جوڑ رہی ہے۔