سدرن زونل کونسل (Southern Zonal Council) کے 31ویں اجلاس میں حد بندی (Delimitation)، مالیاتی شراکت داری اور جنوبی ریاستوں کے سیاسی و معاشی حقوق کے مسائل چھائے رہے۔ اجلاس میں کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سمیت دیگر جنوبی ریاستوں تمل ناڈو، کیرالہ اور تلنگانہ کے نمائندوں نے اپنے مطالبات کونسل کے سامنے رکھے۔
حد بندی(Delimitation)اور لوک سبھا سیٹوں کے جمود کا مطالبہ
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اگلے 25 سالوں کے لیے لوک سبھا کی موجودہ 543 سیٹوں کی تعداد کو برقرار رکھنے کے لیے کونسل سے ایک مشترکہ قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1971 کی آبادی کے اعداد و شمار کو ہی حد بندی(Delimitation)کی بنیاد کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ آبادی پر قابو پانے والی ریاستوں کو سیاسی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے مردم شماری کا انتظار کیے بغیر خواتین کے لیے ریزرویشن کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کیا۔
اسی نوعیت کے خدشات تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور TVK سربراہ وجے نے بھی اٹھائے، جنہوں نے مرکز سے قانون سازی کی یقین دہانی مانگی کہ آبادی پر قابو پانے میں بہتر کارکردگی دکھانے والی کسی بھی ریاست کی پارلیمانی نمائندگی کم نہ کی جائے (تاہم انہوں نے سیٹوں کو مستقل منجمد کرنے کا صریح مطالبہ نہیں کیا)۔
مالیاتی حصہ داری اور گرانٹس میں اضافے کا مطالبہ
شیوکمار نے کونسل کے سامنے کرناٹک کا معاشی خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست قومی جی ڈی پی میں 9 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور ملک کی 42 فیصد سافٹ ویئر برآمدات کرناٹک سے ہوتی ہیں۔ اس معاشی شراکت داری کے پیش نظر انہوں نے درج ذیل مالیاتی مطالبات رکھے:
ٹیکس پول میں اضافہ: قابل تقسیم ٹیکس پول میں کرناٹک کے حصے کو 3.6% سے بڑھا کر 4.7% کیا جائے۔
نقصان کا ازالہ: 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت حصے میں کمی کے باعث ریاست کو چھ سالوں میں تقریباً 65,000 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خاص گرانٹس: 5,495 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ اور 6,000 کروڑ روپے کی ریاست مخصوص گرانٹ فوری طور پر جاری کی جائے۔
انفراسٹرکچر فنڈنگ: بنگلورو-ممبئی ہائی اسپیڈ ریل، ایس ٹی آر آر ساؤتھ پروجیکٹ، اور رائچور میں ایمس (AIIMS) کے لیے زیادہ مرکزی امداد دی جائے۔
معدنیات کے حقوق: مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل 2026 پر دوبارہ غور کرنے اور معدنیات سے مالا مال ریاستوں کے مالی حقوق کے تحفظ کی تاکید کی گئی۔
دریائی پانی کی تقسیم اور دیگر اہم مسائل
آبی تنازعات پر بات کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ پانی کے انتظام کو سیاست سے ہٹ کر مساوات اور شفافیت کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کاویری، کرشنا، اور دیگر ندیوں کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے میکیڈاتو پروجیکٹ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے کرناٹک کے ساتھ ساتھ تمل ناڈو اور پڈوچیری کے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں صحت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ساحلی کٹاؤ، کسانوں کے مسائل اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور مضبوط استغاثہ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔