بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی پہلی بار کسی فلم میں مہاتما گاندھی کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ یہ فلم ہندوستان کی آزادی کے دور کی ایک کہانی پر مبنی ہوگی۔ فلم ساز انوبھو سنہا اور سدھیر مشرا اس پروجیکٹ کے لیے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔
فلم کی کہانی گاندھی کی زندگی کے 21 دنوں پر مبنی ہوگی
یہ تاریخی فلم ہندوستان کی آزادی کے آس پاس کے تقریباً 21 دنوں کی کہانی بیان کرے گی۔ اس دوران دہلی ملک کے سیاسی فیصلوں کا اہم مرکز بن رہا تھا، جبکہ مہاتما گاندھی نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے بارے میں عام طور پر زیادہ بات نہیں کی جاتی۔ فلم میں دکھایا جائے گا کہ آزادی کے اس اہم دور میں گاندھی نے دہلی سے دور جانے کا فیصلہ کیوں کیا اور اس فیصلے نے ان کی زندگی اور اس وقت کے حالات پر کیا اثر ڈالا۔ سدھیر مشرا نے فلم کی کہانی کے بارے میں بتایا کہ یہ تاریخ کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لائے گی جو عام طور پر زیادہ زیر بحث نہیں آتا۔ فلم گاندھی کی سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی سفر پر بھی توجہ دے گی۔
منوج باجپائی کے ساتھ سوربھ شکلا بھی کاسٹ میں شامل
فلم میں منوج باجپائی کے علاوہ معروف اداکار سوربھ شکلا بھی اہم کردار میں نظر آئیں گے۔ منوج باجپائی اپنے سنجیدہ اور مضبوط کرداروں کے لیے مشہور ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہوگا جب وہ اسکرین پر مہاتما گاندھی کا کردار ادا کریں گے۔
انوبھو سنہا اور سدھیر مشرا پہلی بار ساتھ آئے
اس فلم کے لیے انوبھو سنہا اور سدھیر مشرا نے ہاتھ ملایا ہے۔ دونوں فلمساز سماجی اور سیاسی موضوعات پر فلمیں بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
انوبھو سنہا نے ملک، آرٹیکل 15 اور تھپڑ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی ہے، جبکہ سدھیر مشرا ہزاروں خواہشیں ایسی، دھاراوی اور اس رات کی صبح نہیں جیسی فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہیں اپنے فلمی کام کے لیے تین نیشنل فلم ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ فلم کو انوبھو سنہا اور نریندر ہیراوت پروڈیوس کریں گے۔ یہ بنارس میڈیا ورکس کے بینر تلے بنائی جائے گی۔ یہ فلم آزادی کی تاریخ کے ایک ایسے دور کو پردے پر لانے کی کوشش کرے گی جس میں مہاتما گاندھی کے ایک اہم فیصلے اور اس کے پسِ منظر کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔