• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی دباؤ کے باوجود ایران کا بڑا فیصلہ

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کا بڑا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 10, 2026 IST

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کا بڑا فیصلہ
 
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے تقریباً 11 ملین بیرل خام تیل بیرونِ ملک ترسیل کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران نے یہ قدم اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا کہ اگر امریکہ مزید پابندیاں لگاتا ہے یا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتا ہے تو تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔
 

ایران کے جانب سے ترسیل کیا ہوا تیل  

 
 ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران نے پانچ سپر ٹینکرز اور ایک سویزمیکس(Suezmax) بحری جہاز کے ذریعے تقریباً 11 ملین بیرل خام تیل روانہ کیا۔ ان میں سے زیادہ تر جہاز خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کی جانب روانہ ہوئے۔
 
 

امریکہ اور ایران میں کشیدگی کیوں بڑھی؟

 
چند روز قبل امریکہ نے ایران کے مختلف فوجی اور دفاعی مقامات پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تجارتی بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو امریکہ مزید سخت کاروائی کرے گا۔
 
امریکہ کا الزام ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے عالمی تجارت اور سمندری راستوں پر چلنے والے جہازوں کی آمد و رفت خطرے میں پڑ گئی، اسی لیے اس نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی۔
 

ایران میں جانی نقصان

 
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق امریکی حملوں میں ریلوے پلوں سمیت بعض اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 78 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 47 زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔
 

تیل کی قیمتوں پر اثر

 
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی تیل کا تجارتی بازار بھی متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ہفتے خام تیل کی قیمت تقریباً 9 فیصد بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
 
 اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی توانائی کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
 

امریکہ نے رعایت بھی ختم کر دی

 
امریکہ نے ایران کو دی گئی وہ60 دن کی خصوصی رعایت بھی ختم کر دی ہے جس کے تحت ایران کو محدود مقدار میں خام تیل پیدا کرنے اور فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اس رعایت کو برقرار رکھنا مناسب نہیں تھا۔
 

ایران کا ردِعمل

 
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی مداخلت جاری رہی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی کاروائیاں جہاز کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
 

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

 
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ اسی راستے سے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کا اثر فوری طور پر عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
 

مفاہمتی معاہدہ بھی خطرے میں

 
جون میں امریکہ اور ایران ، دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی معاہدہ (MoU)طے پایاتھا ۔ جس کے تحت 60 دن تک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے اور مذاکرات آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔
 
حالیہ حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اس معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔  اگر دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید خراب ہوئے تو نہ صرف عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے بحران کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔