• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر ہندوستان کا باضابطہ شکریہ ادا کیا

ایران نے خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر ہندوستان کا باضابطہ شکریہ ادا کیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 06, 2026 IST

ایران نے خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر ہندوستان  کا باضابطہ شکریہ ادا کیا
ایران نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں اعلیٰ سطح کا ہندوستانی وفد بھیجنے پرحکومتِ ہند کا باضابطہ شکریہ ادا کیا ہے۔ تہران میں ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق، ایران نے ہندوستان کے اس اقدام کو پائیدار دوستی، ہمدردی اور دلی احترام کا طاقتور مظہر قرار دیا۔ ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں، سفارت خانے نے تہران میں ہوئی  تقریبات میں ہندوستان کی موجودگی کو باہمی احترام کی علامت اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کے طور پر بیان کیا۔ ہندوستانی  حکومتی  وفد کے علاوہ کانگریس کے سینئر رہنما 'سلمان خورشید'، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی  کی سربراہ 'محبوبہ مفتی' اور ہندوستان کی مختلف مذاہب (ہندو، سکھ، مسلم اور عیسائی) سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
 
سفارتخانے نے سرکاری ہندوستانی وفد کی آخری رسومات میں  بھارت کی نمائندگی، اورقومی سوگ کے دوران ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر  ہندوستانی حکومت اورعوام دونوں کا شکریہ ادا کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارت خانہ ہندوستان کی دوست حکومت اور عوام بالخصوص ہندوستانی حکومت اور عوام کی جانب سےآخری رسومات کی تقریبات میں شرکت کرنے اور شہید رہبر اعلیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کو خراج عقیدت پیش کرنے پر ہندوستانی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔ 
 
اس کے بعد بیان میں روشنی ڈالی گئی کہ علی خامنہ ای کے چھ روزہ آخری رسومات میں ہندوستان کی شرکت سرکاری سفارتی نمائندگی سے آگے بڑھ گئی۔ سفارتخانے کے مطابق سیاسی رہنماؤں، اراکین پارلیمنٹ، علماء کرام، دانشوروں اور مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کیا۔ 
 
اس میں کہا گیا ہے کہ یہ وسیع شرکت نہ صرف سفارتی خیر سگالی بلکہ ہندوستان اور ایران کے مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور عوام کے درمیان تعلقات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔"ان پروقار تقاریب میں سیاسی قائدین، اراکین پارلیمنٹ، نامور علماء، دانشوروں اور ہندوستان کے متنوع عقائد اور مذہبی برادریوں کے قائدین کی باوقار موجودگی ہماری دونوں قوموں کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور انسانی رشتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ باہمی احترام کے ایک طاقتور اظہار کے طور پر بھی کھڑا تھا۔"

ایران نے بھارت کی دوستی کو سراہا

سفارتخانے نے مزید کہا کہ ایرانی عوام اس عمل  کو دوستی اور ہمدردی کی ایک اہم علامت کے طور پر یاد رکھیں گے۔ انھوں  نے مزید کہا کہ سوگ کی مدت کے دوران ہندوستان کی حمایت، آنے والے سالوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی بنیاد کے طور پر کام کرے گی۔
 
"ایران کے عوام  اس دوستی، ہمدردی اور دلی احترام کے اس جذبے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ وہ اسے اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ ہند کے درمیان پائیدار تعلقات کا ایک قیمتی ثبوت اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک قابل قدر بنیاد سمجھتے ہیں۔" اپنے پیغام کے اختتام پر، سفارتخانے نے ایک بار پھر ہندوستانی حکام، عوامی شخصیات اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خامنہ ای کے انتقال کے بعد ایران کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور اظہار یکجہتی کیا۔
 
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارت خانہ ایک بار پھر تمام ہندوستانی عہدیداروں، معزز شخصیات اور ہندوستان کے معزز لوگوں کو تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے"۔ 
 واضح رہےکہ جنازہ ایک بہت بڑی سفارتی تقریب تھی جس میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، اور ہندوستان کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی، تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔