• News
  • »
  • قومی
  • »
  • وزارت خارجہ کا بڑا بیان: پاسپورٹ شہریت نہیں، صرف سفری دستاویز

وزارت خارجہ کا بڑا بیان: پاسپورٹ شہریت نہیں، صرف سفری دستاویز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 25, 2026 IST

وزارت خارجہ کا بڑا بیان: پاسپورٹ شہریت نہیں، صرف سفری دستاویز
وزارت خارجہ (MEA) کی طرف سے ایک حالیہ بیان نے ملک میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ 14ویں پاسپورٹ سیوا دیوس کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے واضح کیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک "سفری دستاویز" ہے نہ کہ "شہریت کا دستاویز"۔ اس بیان نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے، تو پھر  کونسا دستاویز ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت ہے؟
 
وزارت خارجہ کا مؤقف اور سفارتی حکمت عملی
 
تقریب کے دوران پاسپورٹ خدمات کی توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر عہدیدار نے کہا کہ اگرچہ بیرون ملک سفر کے دوران پاسپورٹ آپ کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، پھر بھی یہ آپ کی شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ کا مقصد ہندوستانیوں کو غیر ملکی بندرگاہوں اور خطوں سے گزرنے اور سفر کرنے میں مدد کرنا ہے اور اس کا موازنہ دیگر دستاویزات سے نہیں کیا جانا چاہئے جو شہریت کے حقوق کو قائم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
 
اس کے ساتھ ہی، حکام نے ہندوستانی افرادی قوت کو عالمی معیشت سے جوڑنے میں پاسپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آنے والے مہینوں میں مغربی ممالک اور جاپان کے ساتھ نقل و حرکت (mobility) کے معاہدوں کو تیز کرے گی تاکہ ہندوستانی شہریوں کو ان صنعتی معیشتوں میں روزگار کے محفوظ مواقع حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
 
شدید عوامی اور سیاسی ردعمل
 
یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب الیکشن کمیشن آف انڈیا انتخابی فہرستوں کی ایک متنازعہ نظرثانی کا کام کر رہا ہے، جس میں ووٹروں کو اپنی اہلیت اور شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارت خارجہ کے اس بیان پر اپوزیشن لیڈرز، قانونی مبصرین اور عوامی شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ سرکاری اداروں کی طرف سے انتہائی سخت اور وسیع تصدیقی عمل (police verification) کے بعد ہی جاری کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں قومیت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے شدید ردے عمل کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین نے اپنے پاسپورٹ کے صفحات کی تصاویر شیئر کیں جہاں قومیت کے خانے میں واضح طور پر "ہندوستانی" (Indian) لکھا ہوا ہے، اور سوال اٹھایا کہ اگر یہ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر کیا ہے؟ 
 
کیا ہے پاسپورٹ قانون.؟
 
سابق ہندوستانی خارجہ سکریٹری نروپما مینن راؤ  نے کہا کہ وزارت خارجہ کا موقف قانونی طور پر بالکل درست ہے کیونکہ ہندوستان میں دستاویز اور قانونی حیثیت دو الگ الگ قوانین کے تحت چلتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کے ،پاسپورٹ ایکٹ، 1967، یہ قانون صرف دستاویز (پاسپورٹ) کے اجراء، اس کے استعمال اور سفری ضوابط کو کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ  شہریت ایکٹ, 1955، آپ ہندوستان کے شہری ہیں یا نہیں کا تعین کرتا ہے۔ پاسپورٹ ایکٹ، صرف سفری دستاویز کو مینیج کرتا ہے، جبکہ دوسرا سٹیزن شپ ایکٹ، ملک میں آپ کی شہریت کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کبھی عدالت میں کسی کی شہریت چیلنج ہو جائے، تو پاسپورٹ اپنے طور پر شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں مانا جاتا، بلکہ شہریت ایکٹ 1955 کے تحت دیگر شواہد دیکھے جاتے ہیں۔
 
پھر ہندوستانی شہریت کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
 
ہندوستان میں شہریت کا تعین شہریت ایکٹ، 1955 (Citizenship Act, 1955) کے تحت ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص درج ذیل پانچ طریقوں سے ہندوستانی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔ پیدائش (By Birth)، نسب (By Descent)، رجسٹریشن (By Registration)، نیچرلائزیشن (By Naturalization)
 
کسی نئے علاقے کا ہندوستان میں شامل ہونا
 
کچھ دوسرے ممالک کے برعکس، ہندوستان اپنے ہر شہری کو کوئی ایک "یونیورسل شہریت سرٹیفکیٹ" جاری نہیں کرتا۔ جب بھی شہریت پر کوئی قانونی سوال اٹھتا ہے، تو عدالتیں اور سرکاری حکام کسی ایک دستاویز کے بجائے ریکارڈز کے مجموعے کی جانچ کرتے ہیں، جن میں شامل ہیں۔ پیدائش کے ریکارڈ (Birth Certificates)، والدین کی تفصیلات اور ان کی شہریت کے دستاویزات، نیچرلائزیشن اور رجسٹریشن کے سرکاری سرٹیفکیٹس وزارت خارجہ کے اس حالیہ بیان نے واضح کر دیا ہے کہ پاسپورٹ بین الاقوامی سرحدوں کو پار کرنے کا اجازت نامہ تو ہے، لیکن ملکی حدود کے اندر شہریت کی حتمی قانونی بحث میں اسے واحد اور حتمی ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔