• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • جے پور: سی ایم کے قافلے کے لیے راستہ خالی کرانے کے دوران پولیس کی بربریت

جے پور: سی ایم کے قافلے کے لیے راستہ خالی کرانے کے دوران پولیس کی بربریت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 25, 2026 IST

جے پور: سی ایم کے قافلے کے لیے راستہ خالی کرانے کے دوران پولیس کی بربریت
راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں وی آئی پی (VIP) کلچر اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے قافلے کے لیے سڑک صاف کرانے کی کوشش کے دوران پولیس ٹیم نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ایک مومو کارٹ کو دھکا دے دیا، جس کے نتیجے میں مومو کارٹ چلانے والی خاتون پر ابلتا ہوا گرم پانی گر گیا اور وہ بری طرح جھلس گئیں۔
 
متاثرہ خاتون بڑا الزام 
 
متاثرہ خاتون، خوشبو گپتا نے میڈیا کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ کی طرح شام تقریباً 6:30 بجے روڈ پر اپنی مومو کارٹ کھڑی کر رہی تھیں۔ اس وقت مومو بنانے والے اسٹیمر میں پانی ابل رہا تھا۔ اسی دوران پولیس کی ایک گاڑی وہاں پہنچی اور اس میں سوار پولیس والوں  نے انہیں فوری طور پر وہاں سے ہٹنے کا حکم دیا۔
 
خاتون کے مطابق، انہوں نے پولیس اہلکاروں کو جواب دیا کہ وہ کارٹ ہٹا رہی ہے، ساتھ ہی انہوں نے پولیس کو خبردار بھی کیا کہ اسٹیمر میں ابلتا ہوا گرم پانی موجود ہے۔ لیکن اس وارننگ کے باوجود، ایک پولیس افسر نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اسٹیمر کو زور سے دھکا دے دیا، جس کے باعث ابلتا ہوا پانی خوشبو گپتا کے ہاتھوں اور سینے پر جا گرا۔
 
انصاف کے بجائے پولیس کی طرف سے دھمکیاں
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خوشبو گپتا نے الزام لگایا ہے کہ اس خوفناک حادثے کے بعد پولیس نے ان کی مدد کرنے یا ہسپتال پہنچانے کے بجائے الٹا انہیں ڈرایا اور دھمکایا۔ متاثرہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مجھ پر دباؤ ڈالا اور کہا کہ میری وجہ سے وزیر اعلیٰ کا قافلہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مجھے سخت انتباہ دیا کہ اگر میں نے اس واقعے کے خلاف کوئی قانونی شکایت درج کروائی، تو الٹا میرے خلاف ہی کارروائی کر دی جائے گی۔
 
سیکیورٹی اور وی آئی پی موومنٹ کے نام پر ایک غریب اور محنت کش خاتون کے ساتھ کی جانے والی اس مبینہ بدسلوکی نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اس واقعے نے عام شہریوں کے تحفظ، پولیس کی جوابدہی اور غریبوں کی روزی روٹی پر وی آئی پی کلچر کے اثرات پر ایک بار پھر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔