• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی ظلم جاری،خاتون صحافی سمیت کئی افراد جبراًگرفتار

غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی ظلم جاری،خاتون صحافی سمیت کئی افراد جبراًگرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad Mia | Last Updated: Jan 06, 2026 IST

غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی ظلم جاری،خاتون صحافی سمیت کئی افراد جبراًگرفتار
 
غزہ میں جنگ بندی نافذ العمل ہے ۔اسکے باوجود اسرائیلی افواج کا فلسطینیوں پر ظلم و ستم کم نہیں ہو رہا،پیر کے روز اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد شہروں  اور پناہ گزین کیمپوں پر دھاوا بولتے ہوئے بڑے پیمانے پر  مظلوم فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔جن میں ایک صحافی خاتون اور ایک کم عمر لڑکا بھی شامل ہے۔
 
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع الخلیل شہر کے مغرب میں بلدہ اذنا میں خاتون صحافی ایناس اخلاوی کو انکے گھرسے گرفتار کر لیا۔اسرائیلی فوج نے اس گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی ۔
 
اسرائیل صحافیوں کو بنا رہا ہے نشانہ:
 
بتا دیں کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں کے دوران فلسطینی صحافیوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے بارہا کہا ہے کہ اسرائیل فلسطین کی میڈیا کوریج کو روکنے اور وہاں کے زمینی حقائق کو دبانے کے لیے جان بوجھ کر صحافیوں کو نشانہ بناتا ہے۔فلسطینی صحافیوں کی سنڈیکیٹ نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھا  کہ اسرائیل نے غزہ کے خلاف تقریباً دو سالہ جنگ کے دوران فلسطینی صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 300 صحافی شہید ہو گئے اور ان صحافیوں کے ساتھ ان کے خاندان کے 700 سے زائد افراد بھی شہادت حاصل کی۔
 
ایسے کئی واقعات ہیں جہاں اسرائیلی حملوں میں فلسطینی صحافی کے خاندان کے تمام افراد مارے گئے ہیں، صرف صحافی زندہ بچا ہے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف اور صرف فلسطینیوں کی آواز کو دبانے اور فلسطینی مسائل پر رپورٹنگ کو روکنے کے لیے نشانہ بناتا ہے۔