جموں و کشمیر کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے اتوار کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے حکومت پر لگائے گئے جانبداری اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات کا سخت جواب دیتے ہوئے سابق پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق حکومت کے دور میں سرکاری اداروں میں ہونے والی متعدد بھرتیوں میں اقربا پروری، سیاسی اثر و رسوخ اور بااثر خاندانوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا، جن میں سے کئی معاملات اس وقت بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔
سکینہ ایتو نے کسی فرد یا رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ آج جو لوگ موجودہ حکومت سے آؤٹ سورسنگ اور تقرریوں کے بارے میں سوالات پوچھ رہے ہیں، انہیں پہلے اپنے دورِ حکومت کا حساب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق، سابق حکومت کے دوران جموں و کشمیر بینک، جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ اور دیگر اہم اداروں میں ایسی تقرریاں کی گئیں جن سے سیاسی رہنماؤں، بااثر خاندانوں اور "پیربرادری" سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ان متنازع بھرتیوں کے خلاف انسدادِ بدعنوانی بیورو (ACB) میں مقدمات درج ہیں اور کئی معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔ سکینہ ایتو کا کہنا تھا کہ ان بھرتیوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرستیں پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب ہیں، اس لیے اپوزیشن کو دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے ماضی کا جائزہ لینا چاہیے۔
وزیر نے مزید الزام لگایا کہ اپوزیشن موجودہ حکومت پر تنقید کرکے دراصل اپنی سابقہ کارکردگی اور مبینہ بے ضابطگیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ماضی میں سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کن بنیادوں پر کی گئی اور کن افراد کو ترجیح دی گئی۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کے کابینہ وزیر جاوید احمد ڈار نے اپنے ایک رشتہ دار کی یونیورسٹی میں تقرری سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹیاں اور دیگر خود مختار تعلیمی ادارے اپنی بھرتیوں کے لیے آزادانہ نظام رکھتے ہیں اور حکومت کا ان تقرریوں میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
جاوید احمد ڈار نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کا کسی وزیر سے خاندانی تعلق ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے ملازمت کے لیے درخواست دینے یا میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام تقرریاں متعلقہ اداروں کے مقررہ قواعد و ضوابط اور شفاف انتخابی عمل کے تحت کی جاتی ہیں، جبکہ حکومت ان فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتی۔
جموں و کشمیر میں سرکاری بھرتیوں اور آؤٹ سورسنگ کے معاملات ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ عوام کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تحقیقات کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں اور مستقبل میں بھرتیوں کے نظام کو کس حد تک شفاف اور غیر جانبدار بنایا جاتا ہے۔