پونے میں قائم معروف ٹیکنالوجی کمپنی پرسسٹنٹ سسٹمز نے جرمنی کی ڈیجیٹل انجینئرنگ کمپنی ناگارو ایس ای (Nagarro SE) کے حصول کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا بیرونِ ملک حصول قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے پرسسٹنٹ عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
کمپنی نے 27 جون کو بتایا کہ وہ اپنی ذیلی کمپنی Galaxy Germany Holding کے ذریعے ناگارو کے تمام بقایا حصص 81 یورو فی شیئر کے حساب سے نقد رقم میں خریدنے کے لیے رضاکارانہ عوامی ٹیک اوور پیشکش دے گی۔ یہ قیمت 25 جون 2026 کو ناگارو کے شیئر کی بند ہونے والی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 140 فیصد زیادہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ معاہدہ 2026 کی چوتھی سہ ماہی یا 2027 کی پہلی سہ ماہی تک مکمل ہو جائے گا۔
پرسسٹنٹ سسٹمز کو اس معاہدے کے لیے ناگارو کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر Lantano Beteiligungen GmbH کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے، جس نے اپنے تقریباً 21 فیصد حصص فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ ناگارو کے انتظامی اور نگران بورڈز نے بھی اس پیشکش کی حمایت کرتے ہوئے حصص یافتگان کو معاہدہ قبول کرنے کی سفارش کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم یہ حتمی پیشکش کی دستاویزات کے جائزے سے مشروط ہوگا۔
دونوں کمپنیوں کے انضمام کے بعد ایک طاقتور عالمی ٹیکنالوجی ادارہ وجود میں آئے گا، جس میں 46 ہزار سے زائد ملازمین کام کریں گے۔ ان میں تقریباً 37 ہزار ملازمین بھارت میں، 3,500 شمالی امریکہ اور 3 ہزار یورپ میں خدمات انجام دیں گے۔ نئی کمپنی کی متوقع سالانہ آمدنی 2.9 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرے گی، جبکہ یہ دنیا بھر میں 350 سے زیادہ بڑے صارفین کو خدمات فراہم کرے گی۔
یہ انضمام مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل انجینئرنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ERP سسٹمز اور کسٹمر ایکسپیرینس سلوشنز جیسے شعبوں میں کمپنی کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی پرسسٹنٹ کی مجموعی قابلِ رسائی عالمی مارکیٹ (TAM) بڑھ کر 1.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اس معاہدے کا ایک اہم فائدہ یورپی مارکیٹ میں کمپنی کی پوزیشن کا مضبوط ہونا بھی ہے۔ انضمام کے بعد پرسسٹنٹ کی آمدنی میں یورپ کا حصہ 9 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو جائے گا، جس سے جرمنی سمیت پورے یورپ میں اس کی موجودگی مزید مستحکم ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف پرسسٹنٹ سسٹمز کی عالمی توسیع کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے بلکہ بھارتی آئی ٹی صنعت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انجینئرنگ کے شعبے میں کمپنی کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔