پٹنہ میں 18 ستمبر کو جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) کی قانون ساز پارٹی کا ایک اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ پارٹی کے تمام قانون سازوں کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اجلاس کئی اعتبار سے اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں قانون ساز کونسل (MLC) انتخابات کی تیاریوں، پارٹی کی تنظیمی مضبوطی، نظریاتی امور اور پارٹی کے ممکنہ نام کی تبدیلی جیسے موضوعات پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
JDU کے رہنما اور دیہی امور کے وزیر سنیل کمار نے اجلاس سے متعلق اہم معلومات دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا نام تبدیل کرکے ’جنتا دل نتیش‘ رکھنے کی تجویز پر اراکین سے مشاورت کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق نتیش کمار پارٹی کے سب سے مقبول اور متفقہ رہنما ہیں، اس لیے نام کی تبدیلی کا فیصلہ اراکین کی رائے اور باہمی اتفاقِ رائے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ اس سے قبل JDU کے قومی ورکنگ صدر سنجے جھا بھی پارٹی کا نام نتیش کمار کے نام پر رکھنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔ اب 18 ستمبر کے اجلاس میں اس معاملے پر پارٹی کے قانون سازوں کی رائے اہم ہو سکتی ہے۔
قانون سازوں کے لیے خصوصی ورکشاپ
اجلاس کے دوران ایک خصوصی ورکشاپ بھی منعقد کیے جانے کی اطلاع ہے۔ سنیل کمار کے مطابق اس ورکشاپ میں قانون سازوں کو ان کے آئینی حقوق، اسمبلی کے قواعد اور قانون ساز ادارے کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ارکان کو ایوان کے اندر اپنے خیالات مؤثر انداز میں پیش کرنے، سوالات اٹھانے اور مختلف معاملات پر حکومت کا مؤقف واضح کرنے کے طریقۂ کار کے بارے میں بھی معلومات دی جائیں گی۔ پارٹی کو تنظیمی طور پر مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
MLC انتخابات پر بھی نظر
سنیل کمار نے کہا کہ اگرچہ اس وقت اسمبلی انتخابات نہیں ہو رہے، لیکن قانون ساز کونسل کے انتخابات قریب ہیں۔ ایسے میں اجلاس میں این ڈی اے کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے حکمت عملی پر خاص توجہ دی جائے گی۔ پارٹی کے قانون سازوں کو اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی تیاریوں، کارکنوں سے رابطے اور امیدواروں کی حمایت کے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔
تیجسوی یادو کے بیان پر بھی ردعمل
دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے ’دونوں انجن ناکارہ ہو چکے ہیں‘ والے بیان پر سنیل کمار نے کہا کہ انہیں اپوزیشن کی سیاسی بیان بازی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار حکومت سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ فصلوں کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے گا اور امدادی رقم جلد ہی ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) کے ذریعے متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ ان کے مطابق انتظامیہ تباہ شدہ مکانات، مویشیوں کے چارے، خوراک اور پینے کے پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں کمیونٹی کچن بھی چلائے جا رہے ہیں۔