Friday, February 20, 2026 | 02 رمضان 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں وکشمیر اسمبلی میں لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت 200 کروڑ روپے کے التواء پر سوال

جموں وکشمیر اسمبلی میں لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت 200 کروڑ روپے کے التواء پر سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 20, 2026 IST

 جموں وکشمیر اسمبلی میں لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت 200 کروڑ روپے کے التواء پر سوال
پی ڈی پی ،کے۔ ایم ایل اے وحید الرحمان پرہ نے جمعہ کو شادی کی امداد اور لاڈلی بیٹی اسکیموں کے تحت بالترتیب 70 کروڑ اور 200 کروڑ روپے جاری نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا، جس میں موجودہ ایک مالی سال بھی شامل ہے۔پررا نے جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو غریب لوگوں کے اس حلقے سے نمٹنے میں ناکام رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے لیے اس طرح کی اسکیمیں بنائی گئی تھیں۔
 
ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا کہ لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت 300 کروڑ روپے "تقسیم کیے گئے" کے بارے میں، 200 کروڑ روپے کی رقم اب بھی زیر التوا ہے اور "234 کروڑ روپے جو کہ شادی اسسٹنس کے تحت 'تقسیم کیے گئے' کے طور پر نشان زد ہیں، 70 کروڑ روپے ابھی بھی خزانے میں موجود ہیں"۔
 
 اس معاملے پر حکومت سے سوال کرتے ہوئےپی ڈی پی, ایم ایل اے نے کہاکہ اگر70 کروڑ اور 200 کروڑ روپئے بھی خزانے سے نہیں  نکلے اور مالیات کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں تو اسے تقسیم کیسے کہا جائے۔  انھوں نے اس عمل کو  ریلیف کےطو رپر تیار کردہ کاغذی کاروائی قرار دیا۔ انھوں نے کہاکہ غریبوں کے ہاتھ میں  پیسے چاہئے صرف  فائلوں کےاعداد و شمار میں نہیں ۔ انھوں نے  اس کا جواب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے کیا ۔ 
 
  اسمبلی میں  بتایا گیا کہ  جموں و کشمیر حکومت نے گزشتہ تین مالی سالوں  بشمول موجودہ سال  میں بھی شادی امداد اور لاڈلی بیٹی اسکیموں کےتحت 364 کروڑ روپئے سے زیادہ کی تقسم تقسیم کی گئی۔ حکومت نے جواب  میں کہاکہ موجودہ مالی سال  کےلئے 44301 مستفیڈین  میں 234 کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے۔  اس  رقم  میں ادائیگی  کےلئے خزانے میں زیر التوا 70.08 کروڑ روپے کےبل بھی شامل ہیں۔
 
سال 2023۔24 میں 1،41085 مستفیدین کو213.75 کروروپئے تقسیم کے ساتھ منظوری دی ۔ سال 2025۔26 میں اس اسکیم کے تحت 198024  افراد  مستفدین کو منظوری دی گئی۔ جس میں 300 کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے۔ تاہم 200 کروڑ روپئے کی رقم زیر التوا ہے۔