جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف احتجاج اور قابل اعتراض نعرے لگے۔ یہ احتجاج اور نعرے دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی حمایت میں تھے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 5 جنوری پیر کو دہلی فسادات کیس معاملہ میں ملزمان کی ضمانت عرضیوں پر اپنا فیصلہ سنایا۔جس میں عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ،جبکہ کیس کے دیگر ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی 12 شرائط پر ضمانت منظور کرتے ہوئےکورٹ نے کہا کہ کیس میں خالد اور شرجیل کا کردار دیگر ملزمان سے مختلف ہے۔ اس لیے انہیں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
تاہم اسی دوران جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں طلبہ کے ایک گروپ نےخالد اور شرجیل کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران مبینہ طور پر حمایت کرنے والے طلبہ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف شدید متنازع نعرے بھی لگائے۔
اس احتجاج کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں طلبہ 'مودی۔شاہ کی قبر کھدے گی، جے این یو کی زمین پر' جیسے نعرے لگاتے نظر آ رہے ہیں۔ تاہم، جے این یو سٹوڈنٹس یونین کی صدر آدیتی مشرا نے پی ٹی آئی سے کہا، ہر سال طلبہ 5 جنوری 2020 کو جے این یو کیمپس میں ہوئی تشدد کی مذمت کرنے کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔ لگائے گئے تمام نعرے نظریاتی تھے اور کسی پر ذاتی حملہ نہیں تھے۔
کیا ہوا تھا 2020 میں ؟
5 جنوری 2020 کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی کے کیمپس میں ایک سنگین تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس روز نقاب پوش افراد کے ایک گروہ نے طلبہ اور اساتذہ پر لاٹھیاں، ڈنڈے اور پتھر استعمال کرتے ہوئے حملہ کیااور ہاسٹلز میں توڑ پھوڑ کی ۔جس میں کئی طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب یونیورسٹی میں فیس میں اضافے اور انتظامی پالیسیوں کے خلاف طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ حملے کے بعد پورے ملک میں شدید ردِعمل سامنے آیا، طلبہ تنظیموں اور عوام نے انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کورٹ نے کیا دلیل دی؟
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاڑیا کی بنچ نے کہا کہ عرضی گزار طویل عرصے سے حراست میں ہیں، لیکن ٹرائل میں تاخیر کو ٹرمپ کارڈ کی طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تمام ملزموں کی کردار پر غور کرنا ضروری ہے۔ کورٹ نے مزید کہا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43D (5)ضمانت دینے کے عام پروویژنز سے الگ ہے۔ یہ عدالتی تحقیقات کو خارج نہیں کرتی یا ڈیفالٹ ہونے پر ضمانت سے انکار کو لازمی نہیں بناتی۔