Sunday, August 16, 2026 | 01 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا بڑا احتجاج، ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ، 20 اگست کو گھیراؤ کی کا اعلان

امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا بڑا احتجاج، ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ، 20 اگست کو گھیراؤ کی کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 16, 2026 IST

امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا بڑا احتجاج، ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ، 20 اگست کو گھیراؤ کی کا اعلان
جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے اتوار کو احتجاج مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طلبہ نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے پتلے جلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس کی اتحادی حکومت ان کے مطالبات پر ٹھوس کاروائی نہیں کر رہی۔ طلبہ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کانگریس، جے ایم ایم کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرے۔ طلبہ رہنما رویندر پاسوان نے کہا کہ اتوار کو جھارکھنڈ کے تمام 24 اضلاع میں ہیمنت سورین اور راہول گاندھی کے پتلے جلائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے فون پر طلبہ کی حمایت کا یقین دلایا تھا، لیکن اب مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی قدم اٹھائے۔

وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤ کا اعلان

طلبہ نے 20 اگست کو رانچی میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو ریاست بھر سے طلبہ اور نوجوان رانچی پہنچ کر احتجاج کریں گے۔ طلبہ کا بنیادی مطالبہ ہے کہ جن امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، انہیں منسوخ کیا جائے اور ان کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ مظاہرین خاص طور پر جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور دیگر ریاستی سطح کے امتحانات کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جھارکھنڈ سے باہر کے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی یا مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی سے کرائی جائے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت نے اب تک ان کے مطالبات پر مطلوبہ کاروائی نہیں کی۔ طلبہ کا احتجاج گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے جاری ہے۔ ہفتے کے روز یوم آزادی کے موقع پر مظاہرین نے رانچی میں ترنگا یاترا بھی نکالی، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ اور امتحان دینے والے امیدواروں نے شرکت کی۔ اس دوران بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے بھی لگائے گئے۔

حکومت اور طلبہ کے درمیان مذاکرات جاری

دوسری جانب جھارکھنڈ حکومت کا کہنا ہے کہ طلبہ کے مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات بھی ہو چکے ہیں،  اب تک دونوں فریقوں کے درمیان کسی حتمی اتفاقِ رائے پر نہیں پہنچا جا سکا ہے۔ طلبہ کی جانب سے احتجاج میں مزید شدت لانے کے اعلان کے بعد معاملہ ایک بار پھر اہم بن گیا ہے، خاص طور پر 20 اگست کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے مجوزہ گھیراؤ کو لے کر انتظامیہ کی توجہ اس احتجاج پر مرکوز ہے۔
 
20 اگست کا احتجاج صرف گھیراؤ تک محدود نہیں ہوگا۔ طلبہ نے واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ حکومت نے پہلے ہی کچھ مطالبات پر کاروائی کا اعلان کیا ہے۔ ہیمنت سورین نے اسمبلی میں 14ویں جے پی ایس سی سول سروسز امتحان کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور مزید جے پی ایس سی امتحانات منسوخ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے ذریعے کرائے گئے امتحانات کی تحقیقات کا بھی اعلان کیا گیا۔
 
اس کے باوجود طلبہ مطمئن نہیں ہیں اور وہ مزید امتحانات منسوخ کرنے، سی بی آئی تحقیقات اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے احتجاج دوبارہ شدت اختیار کر رہا ہے۔