• News
  • »
  • قومی
  • »
  • جسٹس یشونت ورما کو جھٹکا، لوک سبھا اسپیکر کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ہونا ہوگا پیش

جسٹس یشونت ورما کو جھٹکا، لوک سبھا اسپیکر کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ہونا ہوگا پیش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 08, 2026 IST

جسٹس یشونت ورما کو جھٹکا، لوک سبھا اسپیکر کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے  ہونا ہوگا پیش
گھر میں نقدی ملنے کے معاملے میں پھنسے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کو جمعرات کو سپریم کورٹ سے بڑا دھچکا لگا۔ جسٹس دیپانکر دتا اور ایس سی شرما کی بنچ نے ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں جسٹس ورما نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ڈیڈ لائن بڑھانے کی مانگ کی تھی۔ بنچ نے کہا کہ جسٹس ورما کو 12 جنوری کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔
 
عرضی پر فیصلہ محفوظ
 
سپریم کورٹ جمعرات کو جسٹس ورما کی طرف سے دائر اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں انہوں نے لوک سبھا اسپیکر کی تشکیل کردہ 3 رکنی کمیٹی کو منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے۔ اسپیکر نے ورما کے خلاف مواخذہ کے لیے ججز (انکوائری) ایکٹ کے تحت کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسی عرضی میں کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ تاہم، ان کی ڈیڈ لائن بڑھانے کی مانگ مسترد کر دی گئی۔ کمیٹی نے ورما سے 12 جنوری تک تحریری جواب مانگا ہے۔
 
پچھلے سال اگست میں مواخذہ کی تجویز منظور ہوئی تھی
 
لوک سبھا اسپیکر نے اگست میں جسٹس ورما معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور انہیں جج کے عہدے سے ہٹانے کی رسمی کارروائی شروع کی تھی۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ 3 ججز کی اندرونی تحقیقات میں جسٹس کو مجرم پایا گیا تھا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے بعد مرکز نے پارلیمنٹ میں جج کے خلاف مواخذہ کی تجویز پیش کی اور 146 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط والی تجویز کو اسپیکر نے منظور کر لیا۔
 
نقدی ملنے کا معاملہ کیا ہے؟
 
دہلی ہائی کورٹ کے جج رہتے ہوئے جسٹس ورما کے سرکاری رہائش گاہ کے سٹور روم میں 14 مارچ کو آگ لگ گئی تھی۔ ورما کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان نے فائر بریگیڈ اور پولیس کو بلایا۔ آگ بجھانے کے بعد ٹیم کو گھر سے بھاری مقدار میں نقدی ملی۔ اس کی اطلاع اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کو ہوئیں تو انہوں نے کالیجیم میٹنگ بلاکر جسٹس ورما کا تبادلہ الہ آباد ہائی کورٹ کر دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس نے جسٹس ورما کو قصوروار ٹھہرایا۔