کانگریس کے سینئر رہنما کنہیا کمار نے 21 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد سماجی کارکن سونم وانگچک کو جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر الزام عائد کیا کہ ان کی ہدایات پر پرامن احتجاج کرنے والوں کو زبردستی ہٹایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کنہیا کمار نے طنزیہ انداز میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو "لیک پردھان" قرار دیتے ہوئے لکھا کہ امتحانی پیپر لیک کے الزامات کے باوجود وزیر اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو جنتر منتر سے ہٹا دیا جا رہا ہے، جیسے احتجاج کی یہ جگہ عوامی مقام نہیں بلکہ حکومت کی ذاتی ملکیت ہو۔
کنہیا کمار نے حکومت پر جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے سے لے کر انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو خاموش کرانے تک، حکومت کا طرزِ عمل جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق، "جیل جاؤ یا بی جے پی میں شامل ہو جاؤ" کی سیاست کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ حکومت چاہے کتنی ہی سخت کارروائیاں کرے، طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اظہارِ یقین کیا کہ موجودہ احتجاج مستقبل میں ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرے گا اور ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار کرے گا۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ 21 دنوں سے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ NEET سمیت مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔
وانگچک کی صحت مسلسل بگڑنے کے بعد دہلی پولیس نے انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ان کی جان بچانے کے لیے کیا گیا۔
اس دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے پولیس کی کارروائی کی مخالفت کی۔ طبی ذرائع کے مطابق، طویل بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک کا تقریباً 9.5 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے اور وہ اس وقت صفدر جنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کی مسلسل طبی نگرانی کی جا رہی ہے۔
سونم وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے اس کارروائی کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔