• News
  • »
  • قومی
  • »
  • سونم وانگچک کی صحت پر بڑا طبی اپ ڈیٹ، صفدر جنگ اسپتال کا اہم بیان

سونم وانگچک کی صحت پر بڑا طبی اپ ڈیٹ، صفدر جنگ اسپتال کا اہم بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 18, 2026 IST

سونم وانگچک کی صحت پر بڑا طبی اپ ڈیٹ، صفدر جنگ اسپتال کا اہم بیان
دہلی پولیس نے آج صبح سونم وانگچک کو ان کی 21 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران طبیعت خراب ہونے پرصفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا تھا۔ اب  صفدر جنگ اسپتال کا اہم بیان سامنے آیا ہے بتایا گیا کہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو ضروری طبی معائنے کے لیے صبح 7:40 بجے اسپتال لایا گیا تھا۔ اسپتال کے مطابق طویل بھوک ہڑتال اور پانی کی شدید کمی کے باعث وہ جسمانی طور پر کافی کمزور ہو چکے ہیں۔
 
 
اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ سونم وانگچک کی حالت فی الحال مستحکم ہے، تاہم ان کے اہم جسمانی اشاریوں (وائٹل پیرامیٹرز) کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل طبی نگرانی، علاج اور خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
 
ادھر، آج صبح دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا کر اسپتال منتقل کیا، جس کے بعد احتجاجی مقام پر کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اس کارروائی پر مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
 
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی اور حملہ کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اب مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک خود بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کریں گے۔
 
ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ احتجاج ختم نہیں ہوگا بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق، امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات پر حکومت کی خاموشی کے خلاف تحریک جاری رہے گی۔
 
دوسری جانب دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ڈاکٹروں کے مشورے اور عدالت کی ہدایات کے مطابق ان کی صحت کے پیش نظر کیا گیا، تاکہ انہیں بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
 
سونم وانگچک کئی ہفتوں سے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ ان کی صحت بگڑنے کے بعد اب طبی نگرانی کے ساتھ ساتھ اس معاملے پر سیاسی کشیدگی بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔