کرناٹک اسمبلی میں آج جمعرات کوہنگامہ ہوا۔ گورنر تھاور چند گہلوت نے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس کےدوران روایتی خطبہ کی صرف دو سطریں پڑھیں اورخطبہ کو مکمل نہیں کیا ۔ گو رنر نے اس عمل پر کانگریس حکومت نے تنقید کی۔ گہلوت نے صرف ابتدائی سطریں پڑھ کر اپنی تقریرختم کی۔ گورنر نے کہا کہ ان کی ریاست اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور کہا کہ جئے ہند۔ جئے کرناٹک۔ کانگریس ارکان نے حیرت کا اظہار کیا کیونکہ گورنر تھاور چند نے اپنی تقریر درمیان میں ہی ختم کردی۔
گورنر نے کی آئین کی خلاف ورزی
کانگریس ارکان نے ’’شرم کرو، شرم کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ سی ایم سدارامیا نے کہا کہ گورنر گہلوت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے لکھی گئی پوری تقریر نہیں پڑھی۔ریاستی وزیر برائے قانون اور امور مقننہ ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاستی حکومت کا تقریر میں ریاست کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر تنقید کرنا فطری ہے۔"تقریر میں مرکز سے منریگا کو بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ گورنر کو کچھ تحفظات ہیں۔ ہم نے واضح کیا کہ ہم وضاحتیں فراہم کرنے اور کچھ چیزوں کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، وہ 11 پیراگراف کو ہٹانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
مرکزی حکومت کی کٹھ پتلی بننے کا الزام
سی ایم نے الزام لگایا کہ گورنر گہلوت مرکزی حکومت کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ سی ایم سدارامیا نے کہا کہ وہ گورنر کے رویے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ گورنر تھاور چند نے کرناٹک حکومت کی طرف سے تیار کردہ تقریر کے 11 پیراگراف پراعتراض ظاہر کیا۔
سپریم کورٹ سےرجوع ہونے کا امکان
کرناٹک میں کانگریس زیرقیادت حکومت اور گورنر کے درمیان کشیدگی مزی بڑھنے کا امکان ہے۔ گورنر کے مشترکہ اجلاس کے خطاب سے حکومت نے پیراگراف11 کو حذف نہ کرنے پر خطبہ مکمل نہیں کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر ریاست میں آئینی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے، اور ریاستی حکومت امکان ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر گورنر کو حکومت کی طرف سے تیار کردہ اور حوالے کی گئی تقریر کو پڑھنے کی ہدایت کرے۔
ایڈوکیٹ جنرل دہلی روانہ
کرناٹک اسمبلی کا مشترکہ اجلاس جمعرات کی صبح 11 بجے شروع ہوا ۔ا ور گورنر نے اپنا خطبہ مکمل نہیں کیا۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ایڈوکیٹ جنرل ششی کرن شیٹی نئی دہلی روانہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے اور گورنر کے لیے ہدایات حاصل کرنے کے امکان پر بات چیت جاری ہے۔
حکومت کے دو اہم نکات
سپریم کورٹ کے سامنے دائر کی جانے والی مجوزہ درخواست میں حکومت دو اہم نکات پر ہدایات حاصل کرنے کا امکان ہے۔ سب سے پہلے گورنر کو ایوان میں حکومت کا خطاب پڑھنا چاہیے۔ دوسرا، گورنر کو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ چیف منسٹر نے اے ایس پوننا اور ایڈوکیٹ جنرل کو عرضی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
حکومتی وفد کی گورنر سے ملاقات
واضح رہے کہ مشترکہ اجلاس سے گورنر کے روایتی خطاب پر تنازعہ اس وقت شروع ہوا،جب گورنر تھاور چند گہلوت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ ریاستی کابینہ کے ذریعہ تیار کردہ تقریر سے 11 پیراگراف کو ہٹائے۔گورنر سے ملاقات کرنے والے وفد نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سے تبادلہ خیال کیا جائے گا، اور فیصلہ ان سے مطلع کیا جائے گا۔
پیراگرام 11 میں کیا ہے؟
مشترکہ اجلاس جمعرات کوشروع ہوا۔اس سے پہلے ریاستی وزیر برائے قانون اور امور مقننہ ایچ کے پاٹل، ایڈوکیٹ جنرل ششی کرن شیٹی، چیف منسٹر کے قانونی مشیر اور ایم ایل اے اے ایس پوننا کی سربراہی میں ایک وفد نے بدھ کی رات لوک بھون میں گورنر سے ملاقات کی تھی ، جس میں ان کی طرف سے(VB-G RAM G)، وکشت بھارت-گیانرٹی فار روزگار ا ور اجی ویکا مشن کے قانون سازی پر اور دیگر مسائل پر مرکز کو نشانہ بنانے والے کچھ پیراگراف پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ ۔
مرکز سے نا انصافی پر تنقید
بنگلورو میں راج بھون کے باہر میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے قانون اور امور مقننہ ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاستی حکومت کا تقریر میں ریاست کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر تنقید کرنا فطری ہے۔"تقریر میں مرکز سے منریگا کو بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ گورنر کو کچھ تحفظات ہیں۔ ہم نے واضح کیا کہ ہم وضاحتیں فراہم کرنے اور کچھ چیزوں کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، وہ 11 پیراگراف کو ہٹانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔