Thursday, January 22, 2026 | 03, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • افغانستان میں پاکستانی ادویات کی فروخت پر پابندی کیوں؟

افغانستان میں پاکستانی ادویات کی فروخت پر پابندی کیوں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 22, 2026 IST

افغانستان میں پاکستانی ادویات کی فروخت پر پابندی کیوں؟
افغانستان کی طالبان حکومت نےایک بڑا اعلان کیا ہے۔ جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور تعلقات میں تلخی آ سکتی ہے۔ طالبان نے 21 جنوری بدھ کو  اعلان کیا کہ افغانستان میں پڑوسی ملک پاکستان سے درآمد کی گئی ادویات آئندہ 9 فروری کے بعد فروخت نہیں کی جائیں گی اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وقت کی حد (9 فروری) سے پہلے تمام متعلقہ تجارتی لین دین مکمل کر لیں۔
 
دراصل، افغانستان میں طالبان حکومت نے صنعت کاروں اور تاجروں کو پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کے ذریعے تجارت کے راستے تلاش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔افغانستان کے وزارت خزانہ (MoF) نے کہا ہے کہ پاکستان سے آنے والی ادویات کے حوالے سے 13 نومبر 2025 کو فیصلہ کیا گیا تھا، اس فیصلے کے نافذ ہونے میں صرف 19 دن باقی ہیں۔ اس فیصلے کے مطابق 9 فروری کے بعد پاکستان سے درآمد کی گئی ادویات کو کسی بھی صورت میں پروسیس نہیں کیا جائے گا۔
 
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 13 نومبر 2025 کو، MoF نے اعلان کیا تھا کہ اقتصادی امور کے نائب وزیر اعظم کے دفتر کے ہدایت کے بعد، تین ماہ بعد پاکستان سے درآمد شدہ ادویات کو سرحدی کسٹم کے ذریعے پروسیس نہیں کیا جائے گا۔
 
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال کے آخر سے افغانستان-پاکستان تجارتی راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے بازاروں میں شدید اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اضافہ کا سامنا ہے۔
 
پچھلے سال 12 نومبر 2025 کو افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب وزیرِ اعظم عبدالغنی برادر نے تاجروں اور صنعت کاروں سے پاکستان پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل تجارتی راستوں کی تلاش کا مطالبہ کیا تھا۔ برادر نے الزام لگایا کہ اسلام آباد نے بار بار تجارتی راستے بند کیے اور تجارتی معاملات کو سیاسی رنگ دیا، جس سے دونوں ملکوں کے تاجروں اور صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے آخر کار افغان حکومت کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔