Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • کرناٹک: اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وزیر

کرناٹک: اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وزیر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

کرناٹک: اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وزیر
کرناٹک کے وزیر بسوراج رائے ریڈی (Basavaraj Rayareddy) کے ایک بیان نے ریاست کی سیاست میں نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ وزیر نے مسلم کمیونٹی کے لیے منعقدہ ایک مفت اجتماعی شادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو ایک عظیم مذہب قرار دیا اور مذاہب کے مطالعے اور ان کی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ تقریب پیغمبر اسلام کے یومِ پیدائش کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ خطاب کے دوران بسوراج رائے ریڈی  نے کہا کہ اسلام کے بارے میں معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قرآن کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور لوگوں کو تمام مذاہب کے بارے میں جاننے اور ان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
 
وزیر نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ حج پر جانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اب تک اس کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ حج کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے، تاہم ہر شخص کو مسجد کا دورہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ وہ مذہب اور اس کی روایات کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ بسوراج رائے ریڈی کے بیان کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں ان کے مخالفین نے الزام لگایا کہ وزیر نے اسلام کو دیگر مذاہب سے برتر قرار دیا ہے۔ اس کے بعد سیاسی حلقوں میں ان کے بیان پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
 
 
بیان کے بعد اپوزیشن اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے وزیر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک آئینی عہدے پر موجود وزیر کو مذہب کے حوالے سے بیان دیتے وقت زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری جانب بسوراج رائے ریڈی کے بیان کا بنیادی محور مذہبی ہم آہنگی، مذاہب کے مطالعے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب کو سمجھنے کے لیے ان کی تعلیمات اور تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
 
اب اس معاملے پر سب کی نظریں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ردعمل پر ہیں۔ سیاسی دباؤ کے درمیان یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اپنے وزیر کے بیان کو کس طرح دیکھتی ہے اور کیا اس معاملے میں کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرناٹک میں مذہب،سیاست اور عوامی بیانات سے متعلق معاملات پہلے ہی سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ رائریڈی کے بیان نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو مذہبی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کس حد تک محتاط رہنا چاہیے۔