Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • جرائم روکنے کی ذمہ داری صرف پولیس کی نہیں، انجنی کمار کا اہم پیغام

جرائم روکنے کی ذمہ داری صرف پولیس کی نہیں، انجنی کمار کا اہم پیغام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 30, 2026 IST

جرائم روکنے کی ذمہ داری صرف پولیس کی نہیں، انجنی کمار کا اہم پیغام
تلنگانہ کے سابق ڈی جی پی اور حیدرآباد کے سابق پولیس کمشنر انجنی کمار نے ایک ادبی مباحثے کے دوران حیدرآباد میں جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت، پولیس میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور جرائم کی روک تھام میں شہریوں کے کردار پر بات کی۔ یہ گفتگو  پیٹرک ریڈن کیف کی کتاب London" Falling" پر منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ہوئی۔ پروگرام کا اہتمام دی لِٹ پیپل نامی بک کلب نے کیا تھا، جسے کلپنا سنہا اور اُنّتی وید نے قائم کیا ہے۔
 

جرائم کے طریقے بدل رہے ہیں

انجنی کمار نے اپنے طویل پولیسنگ کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں جرائم کی بنیادی نوعیت کافی حد تک ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ان کے طریقے اور پیمانے ضرور بدلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بھی جرائم کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں چھوٹی چوری اور دیگر روایتی جرائم زیادہ عام تھے، اب ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ جیسے جرائم تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔
 

پولیسنگ میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا استعمال

انجنی کمار نے حیدرآباد پولیس کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال کی مثالیں بھی دی۔ ان میں ٹریفک کے نظام کو ڈیجیٹل بنانا اور خودکار جرمانے کا نظام شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی مداخلت کم کی جا سکتی ہے، جس سے پولیس کے کام میں تیزی اور کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔
 

جرائم کی روک تھام صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں

سابق ڈی جی پی نے اس بات پر زور دیا کہ جرائم کو روکنے کی ذمہ داری صرف پولیس پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ معاشرے کو بھی مجرمانہ رویوں کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ انہوں نے ہراسانی، چھیڑ چھاڑ، حملے اور آن لائن فراڈ جیسے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور متعلقہ اداروں پر کاروائی کے لیے مسلسل دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔
 

شہریوں کی آواز سے تبدیلی ممکن ہے

انجنی کمار کے مطابق جب شہری کسی مسئلے پر متحد ہو کر آواز اٹھاتے ہیں اور حکومت و اداروں سے جواب طلب کرتے ہیں تو ان پر کاروائی کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے۔
 

ادبی بحث میں جرائم اور معاشرے کا تعلق

اس پروگرام میں کتاب میں پیش کیے گئے لندن کے مجرمانہ ماحول اور حیدرآباد جیسے شہروں میں جرائم کی بدلتی صورت حال کے درمیان مماثلتوں پر بھی بات ہوئی۔ مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ادب صرف کہانی سنانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے جرائم، پولیسنگ، حکمرانی اور شہری ذمہ داری جیسے اہم مسائل پر بھی گفتگو کی جا سکتی ہے۔