نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں دلتوں کے لیے ذیلی کوٹے کے معاملے پر مرکزی وزراء چراغ پاسوان اورجیتن رام مانجھی کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے موقف پر تنقید کی اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا۔
چراغ پاسوان نے ذیلی کوٹے کی مخالفت کی
مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری اور حاجی پور سے لوک سبھا رکن چراغ پاسوان نے دلت برادری کے اندر ذیلی زمرہ بنانے کی مخالفت کی۔
ان کا کہنا ہے کہ دلتوں کے لیے مخصوص کوٹے کے اندر مزید تقسیم کرنے سے برادری میں اختلاف اور تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ پاسوان سے جب دلت ریزرویشن پالیسی میں تبدیلی اور جیتن رام مانجھی اور ان کے بیٹے کی ذیلی کوٹے کی حمایت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ کریمی لیئر کے تصور کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہئیں۔ چراغ پاسوان نے کہا کہ ان کا موقف ان کے والد رام ولاس پاسوان کے موقف سے بھی میل کھاتا ہے۔ رام ولاس پاسوان نے بہار میں دلتوں کے لیے الگ "مہادلت" زمرہ بنانے کی سابقہ کوشش کی بھی مخالفت کی تھی۔
جیتن رام مانجھی نے پاسوان کو جواب دیا
مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے چراغ پاسوان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی کوٹے سے دلت برادری کے زیادہ محروم طبقوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مانجھی کے مطابق دلت برادری کے اندر کچھ ذاتیں ایسی ہیں جو دوسری ذاتوں کے مقابلے میں زیادہ پسماندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان طبقات کے لیے مخصوص فلاحی اقدامات ضروری ہیں اور ذیلی کوٹے کے ذریعے ان تک فائدہ زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ مانجھی نے چراغ پاسوان سے کہا کہ اگر وہ اس معاملے کو سمجھ نہیں پا رہے تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
مانجھی کے بیٹے نے بھی پاسوان پر تنقید کی
جیتن رام مانجھی کے بیٹے اور بہار کے وزیر سنتوش کمار سمن نے بھی سوشل میڈیا پر چراغ پاسوان کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے اپنی پوسٹ میں پاسوان کا نام براہ راست نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے لیے "کوٹے کے اندر کوٹہ" اور کریمی لیئر دو الگ الگ معاملات ہیں۔ انہوں نے کچھ انتہائی محروم دلت ذاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقے دلت برادری کے اندر بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔
این ڈی اے کے لیے نئی مشکل
چراغ پاسوان اور جیتن رام مانجھی کے درمیان یہ اختلاف این ڈی اے کے لیے سیاسی طور پر اہم ہے، کیونکہ دونوں کی جماعتیں بہار اور مرکزی حکومت میں بی جے پی کی اتحادی ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے پاس لوک سبھا میں پانچ نشستیں ہیں، جبکہ ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے پاس ایک نشست ہے۔ بہار اسمبلی میں مانجھی کی جماعت کے پانچ ارکان جبکہ پاسوان کی جماعت کے 19 ارکان ہیں۔ اس تنازع نے دلت ریزرویشن کے اندر ذیلی زمرہ بندی کے حساس مسئلے پر این ڈی اے کے اتحادیوں کے درمیان اختلاف کو نمایاں کر دیا ہے۔