سنجو سیمسن نے 2026 ٹی20 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھا کر خود کو ٹورنامنٹ کے اہم کھلاڑیوں میں شامل کر لیا۔ لیکن ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے ان کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ خراب فارم کی وجہ سے انہیں ٹیم کی پلیئنگ الیون سے باہر کر دیا گیا تھا۔ اب ہندوستان کے ٹی20 ورلڈ کپ کے ونر کپتان سوریہ کمار یادو نے بتایا ہے کہ سیمسن کو ٹیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ ان کے لیے کتنا مشکل تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیمسن نے اس فیصلے پر ایسا جواب دیا جس نے انہیں حیران کر دیا۔
سیمسن کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟
ورلڈ کپ سے پہلے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز میں سنجو سیمسن کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی۔ اس کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے انہیں پلیئنگ الیون سے باہر کر کے ایشان کشن کو موقع دیا۔ سوریہ کمار یادو نے ایک انٹرویوں میں بتایا کہ وہ بس میں سیمسن کے ساتھ بیٹھے تھے اور انہیں سمجھانا آسان نہیں تھا کہ انہیں کیوں نہیں کھلایا جا رہا۔
سیمسن نے کیا جواب دیا؟
سوریہ کمار کے مطابق، جب انہوں نے سیمسن سے بات کی تو سیمسن نے ان سے کہا کہ ٹیم کو ورلڈ کپ جیتنے کے لیے جو فیصلہ درست لگے، وہی کریں۔
سیمسن نے یہ بھی کہا کہ جب بھی ٹیم کو ان کی ضرورت ہوگی، وہ موجود ہوں گے اور وہ اس طرح تیاری کریں گے جیسے انہیں اگلے میچ میں کھیلنا ہو۔ سوریہ کمار اس جواب سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ بھی زندگی میں ہوتے ہیں جو ذاتی مایوسی کے باوجود ٹیم کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
سیمسن کے کردار نے اعتماد بڑھایا
سوریہ کمار نے بتایا کہ سیمسن کے اس رویے سے انہیں بہت اعتماد ملا۔ ان کے مطابق، سیمسن نے ڈراپ کیے جانے کے باوجود شکایت نہیں کی بلکہ خود کو اگلے موقع کے لیے تیار رکھا۔ سوریہ کمار نے کہا کہ سیمسن کو ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ ان کے لیے سب سے مشکل فیصلوں میں سے ایک تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیمسن نہ صرف ایک اچھے کھلاڑی بلکہ اچھے انسان بھی ہیں۔
سوریہ کمار نے ماضی کا واقعہ بھی بتایا
سوریہ کمار نے بتایا کہ 2024 میں سری لنکا کے دورے کے دوران بھی سیمسن فارم کے حوالے سے پریشان تھے۔ اس وقت سیمسن نے ان سے مشورہ مانگا تھا۔ سوریہ کمار نے انہیں یقین دلایا تھا کہ انہیں سیمسن کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے اور کوچ بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے سیمسن کو مشورہ دیا تھا کہ مشکل وقت میں بھی کھیلتے رہیں اور اپنے موقع کا انتظار کریں۔
ٹیم میں واپسی اور پھر شاندار کارکردگی
سنجو سیمسن نے بعد میں ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں ٹیم کی پلیئنگ الیون میں دوبارہ جگہ بنائی۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم میچ میں ناقابل شکست 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس کے بعد سیمی فائنل اور فائنل میں بھی انہوں نے 89، 89 رنز کی اننگز کھیلی۔ آخرکار سیمسن پورے ٹورنامنٹ میں ہندوستان کے سب سے نمایاں بلے بازوں میں شامل رہے اور انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سوریہ کمار کا سیمسن کے بارے میں کہنا ہے کہ انہیں شروع میں ٹیم سے باہر کرنا مشکل ضرور تھا، لیکن سیمسن نے جس تحمل اور ٹیم کے لیے قربانی دینے والے رویے کا مظاہرہ کیا، وہ ان کے کردار کی بڑی مثال ہے۔