Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران امریکہ سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار؟ پزشکیان کا اہم بیان

ایران امریکہ سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار؟ پزشکیان کا اہم بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 30, 2026 IST

ایران امریکہ سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار؟ پزشکیان کا اہم بیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ  کے درمیان امن مفاہمت کی یادداشت یعنی ایم او یو ایران، مغربی ایشیا اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ ایران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر اس مفاہمت پر عمل درآمد ہوتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کے لیے خطے میں مزید کشیدگی، حملوں اور عدم تحفظ پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
 

مسلم ممالک کے اتحاد پر زور

ایرانی صدر نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو ان کے بقول ان کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی اور وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر کوئی ملک ایران پر حملہ کرے گا تو ایران اپنا دفاع کرنے کے لیے پوری طاقت سے جواب دے گا۔
 

ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ پر الزام

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکہ  کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ کچھ طاقتیں اپنے فائدے کے لیے عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کرنے اور ایران کے خلاف جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ گروپ کے خلاف کاروائی کا دعویٰ کیا اسی دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ایک مبینہ دہشت گرد گروہ کے خلاف کاروائی کی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کاروائی میں گروہ کا ایک رکن ہلاک اور چھ افراد گرفتار کیے گئے۔  
 

ایران اور امریکہ میں جنگ اور پھر مفاہمت

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا دیا تھا، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی۔ بعد میں 18 جون کو ایران اور امریکہ  نے خطے میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کو حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کے اندر مذاکرات کرنے تھے۔ یہ مدت 17 اگست کو ختم ہو چکی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد یہ واضح نہیں کہ مذاکرات اب کس مرحلے میں ہیں۔ اس صورتحال میں ایرانی صدر کا تازہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران اب بھی امریکہ  کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کو اپنے اور خطے کے مفاد میں سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایران اپنے دفاع اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف پر بھی قائم ہے۔
 
ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں ہونے والے سمجھوتے کی مدت 17 اگست کو ختم ہوگئی،اس مفاہمت میں صرف جنگ روکنے کی بات نہیں تھی بلکہ آبنائے ہرمز، امریکی پابندیوں، ایران کی تیل کی برآمدات، ایران کی جوہری سرگرمیوں اور جنگ کے بعد تعمیر نو جیسے معاملات بھی شامل تھے۔ لیکن ایران اب بھی اسی سمجھوتے کی بنیاد پر امریکہ سے دوبارہ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔