Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ اور ایران میں پھر کشیدگی، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

امریکہ اور ایران میں پھر کشیدگی، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

امریکہ اور ایران میں پھر کشیدگی، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر 31 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کا جزیرہ کھرگ (Kharg Island)مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے ویڈیو کے ساتھ مختصر پیغام میں لکھا کہ ’’کھرگ جزیرہ پوری طرح سے تباہ ہو چکا ہے۔‘‘
 
دوسری جانب ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور یعنی آئی آر جی سی کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایران کے مطابق اس نے امریکی کارروائی کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اردن کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا گیا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کو ایران کے جزیرہ لارک پر موجود دو لانچروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
 
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق امریکی فوج نے آئی آر جی سی کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ حملے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے مطابق امریکی فوج خطے کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ 
 
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کردی ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ایران امریکی کارروائی کے جواب میں مزید کیا قدم اٹھاتا ہے اور امریکا اس کے ممکنہ ردعمل کا کس طرح جواب دیتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی توانائی منڈی اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔