Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • ہریانہ: انکت بالیان قتل کیس میں بڑا انکشاف، پولیس مقابلے میں دو مشتبہ شوٹر ہلاک

ہریانہ: انکت بالیان قتل کیس میں بڑا انکشاف، پولیس مقابلے میں دو مشتبہ شوٹر ہلاک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

ہریانہ: انکت بالیان قتل کیس میں بڑا انکشاف، پولیس مقابلے میں دو مشتبہ شوٹر ہلاک
ہریانوی گلوکار انکت بالیان کے قتل کیس میں یوپی پولیس نے اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ شاملی میں پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران قتل کیس سے منسلک دو مشتبہ شوٹر ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی شاملی صدر کوتوالی تھانے کی حدود میں واقع صنعتی علاقے میں پیر کی صبح ہوئی۔ ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت موہت اور سمیت کے طور پر کی گئی ہے، جن دونوں کا تعلق ہریانہ کے سونی پت سے بتایا گیا ہے۔شاملی پولیس کے مطابق دونوں ملزمان انکت بالیان قتل کیس میں مطلوب تھے اور ان پر 50،000 روپے فی کس انعام بھی مقرر تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چیکنگ کے دوران مشتبہ موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر ملزمان نے مبینہ طور پر پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان زخمی ہوئے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔
 
پولیس کے مطابق اس کارروائی میں SWAT ٹیم کے دو ہیڈ کانسٹیبل، ہرویندر اور پردیپ، بھی گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پولیس نے جائے وقوعہ سے دو پستول، متعدد زندہ کارتوس اور استعمال شدہ کارتوس، ایک موٹرسائیکل، بیگ، موبائل فون اور نقد رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد کیے گئے سامان کی فارنسک جانچ بھی کی جائے گی۔
 
شاملی کے ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق انکت بالیان کے قتل کے بعد ضلع میں رات کے وقت چیکنگ اور ناکہ بندی سخت کر دی گئی تھی۔ اسی دوران پولیس ٹیم کا مشتبہ افراد سے سامنا ہوا۔پولیس کا مزید دعویٰ ہے کہ موہت اور سمیت کا تعلق دہلی کے گوگی گینگ سے تھا۔ دونوں سونی پت کے رہنے والے تھے۔ تاہم قتل کے اصل محرک اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
 
یاد رہے کہ انکت بالیان کو 26 اگست کی شام تقریباً 6:45 بجے جم سے نکلتے وقت گولی مار دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار چار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے دیکھا گیا، جبکہ پولیس کے مطابق تقریباً 18 راؤنڈ فائر کیے گئے۔انکت بالیان کے قتل کے بعد مغربی اتر پردیش میں بھی سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے واقعے کو ریاست کی امن و امان کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے حکومت پر سوال اٹھائے تھے۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ قتل کی اصل وجہ کیا تھی، باقی حملہ آور کون ہیں اور انکت بالیان کو نشانہ بنانے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ پولیس کے مطابق تمام ممکنہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں۔