آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں دیے گئے ایک بیان کے بعد ملک میں سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں منعقدہ ’یونیورسل وَن نیس سیلیبریشن‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے بھارت کی سماجی اور ثقافتی شناخت پر بات کی اور کہا کہ اتحاد اور تنوع بھارت کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔موہن بھاگوت نے اپنے خطاب کے دوران ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو نہیں رہنا چاہیے، تو وہ حقیقی معنوں میں ہندو نہیں ہے۔ ان کے اس بیان کو بھارت کے سماجی تنوع اور مختلف مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بھاگوت کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کی سیاست پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی بات صرف امریکہ میں نہیں بلکہ بھارت میں بھی واضح طور پر کہنی چاہیے۔ سنجے راوت کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر ایسے بیانات کی زیادہ ضرورت ہے، جہاں اکثر مذہب اور شناخت کے معاملات سیاسی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج نے بھی موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کو یہی بات اپنی پارٹی کے وزرائے اعلیٰ اور ان دیگر رہنماؤں کو بھی سمجھانی چاہیے، جو اکثر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت یا تقسیم سے متعلق بیانات کی وجہ سے سیاسی تنازعات میں رہتے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان اگرچہ اہم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس سوچ کا عملی اثر ملک کی سیاست اور سماجی ماحول میں کس حد تک نظر آتا ہے۔موہن بھاگوت کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر بھارت میں تنوع، مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے موضوع پر سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف آر ایس ایس سربراہ نے بھارت کی شناخت کو اتحاد اور تنوع سے جوڑا، وہیں اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ اس سوچ کو صرف تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سیاست اور سماجی رویوں میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔