Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ہندوستان اور ازبکستان کے تعلقات میں نئی پیش رفت، جامع اسٹریٹیجک شراکت داری پر اتفاق

ہندوستان اور ازبکستان کے تعلقات میں نئی پیش رفت، جامع اسٹریٹیجک شراکت داری پر اتفاق

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

ہندوستان اور ازبکستان کے تعلقات میں نئی پیش رفت، جامع اسٹریٹیجک شراکت داری پر اتفاق
ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے درمیان تاشقند میں وفود کی سطح پر اہم مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے اپنے باہمی تعلقات کو جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے پر اتفاق کیا۔مذاکرات کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے وسطی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
 
وزیر اعظم مودی اور صدر شوکت مرزایوف نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ توانائی کے شعبے کو مذاکرات میں خاص اہمیت دی گئی، جہاں یورینیم کی طویل مدتی فراہمی سمیت توانائی تعاون کے مختلف معاملات پر بات ہوئی۔دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں ہندوستان اور ازبکستان کے وزراء اور اعلیٰ حکام نے مختلف شعبوں سے متعلق تقریباً 11 معاہدوں اور یادداشتِ مفاہمت کا تبادلہ کیا۔ وزارت خارجہ کے سکریٹری ویسٹ سیبی جارج کے مطابق، ملاقات کے دوران عالمی اور علاقائی صورتحال کے علاوہ مختلف کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
 
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ رواں سال ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کے 15 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے سال 2030 تک باہمی تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان چیلنجز کے خلاف زیرو ٹالرینس ہندوستان اور ازبکستان کا مشترکہ عزم ہے۔
 
اس موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز 'اولی داراجالی دوستلیک' سے بھی نوازا۔ تاشقند میں منعقدہ خصوصی تقریب میں یہ باوقار اعزاز پیش کیا گیا۔اعزاز حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے اسے اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان کا ذاتی اعزاز نہیں بلکہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کا اعزاز ہے۔ انہوں نے یہ اعزاز ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور مضبوط تعلقات کے نام وقف کیا۔تاشقند میں ہونے والی یہ ملاقات اور معاہدے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات، تجارت، توانائی، سلامتی اور علاقائی تعاون کے ایک نئے باب کی جانب اہم قدم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔