تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا نے منگل کو اپنے کزن اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سابق رکن پارلیمنٹ جے سنتوش راؤ پر تلنگانہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے’’اہم مخبر‘‘ اور کلیدی ’’خفیہ ایجنٹ‘‘ ہونے کا الزام لگایا۔
سی ایم پر سنتوش راؤ کو بچانے کا الزام
کویتا نے سنتوش پرحملہ بولا، جو فون ٹیپنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اس کیس میں سابق ایم پی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کےسی آرکی ہر جانکاری دینے کا الزام
کویتا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سنتوش بی آر ایس صدر اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کے بارے میں ہر معلومات ریونت ریڈی کو دیتے ہیں۔ کے سی آر کی بیٹی کویتا نے کہا۔"سنتوش وہی شخص ہے جو یہاں تک کہ کے سی آر کیا کھاتے ہیں ، ان کے کھانے میں اڈلی تھی یا نہیں، اس بارے میں معلومات ریونت ریڈی تک پہنچاتے ہیں ،"
کے سی آر کو تلنگانہ تحریک کے کارکنوں اورشہیدوں سے دور رکھا
کویتا نے الزام لگایا کہ سنتوش راؤ نے بدنیتی سے کے سی آر کو تلنگانہ تحریک کے کارکنوں اور شہیدوں کے اہل خانہ سے دور رکھا۔اس نے سنتوش راؤ کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جس میں انقلابی شاعر مرحوم غدر کو پرگتی بھون کے باہر اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر سے ملنے کا انتظار کرتے دیکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق رکن اسمبلی سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے بی آر ایس چھوڑنے کے لئے بھی ذمہ دار تھے۔
سنتوش راؤ پہلے نمبرکےشیطان
کویتا نے ریمارکس کئے کہ جن "شیطانوں" کے بارے میں پہلے بات کی تھی، ان میں سنتوش راؤ پہلے ہیں۔ انھوں نے پچھلے سال کہا تھا کہ کے سی آر ایک ایسے دیوتا ہیں جو ’’شیطانوں‘‘ سے گھرے ہوئے ہیں۔
تلنگانہ جاگروتی کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا اعلان
کویتا بی آر ایس کو چھوڑتے ہوئے اور پارٹی مخالف سرگرمیوں کے لیے معطل کیے جانے کے بعد قانون ساز کونسل سے بھی استعفیٰ دے دیا، انھوں نے حال ہی میں اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی، جو ثقافتی تنظیم انھوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران قائم کی تھی، کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
زخمی ایکسائز کانسٹیبل کی عیادت کی
کویتا حیدرآباد کے نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (NIMS) میں ایکسائز کانسٹیبل سومیا سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کر رہی تھی، جو حال ہی میں ضلع نظام آباد میں گانجہ کی مبینہ طور پر نقل و حمل کرنے والے ایک گینگ کی کار سے ٹکرانے کے بعد شدید طور پر زخمی ہو گئی تھی۔
جرائم پیشہ لوگ بے خوف؟
کویتا نے کہا کہ اگر ایک 'گانجہ بیچنے والے' میں ایک ایکسائز کانسٹیبل کو مارنے کی کوشش کرنے کی جرات ہے تو یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو ان سے کوئی خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "اس حکومت نے ریاست کو منشیات اور گانجہ سے پاک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اب، گائوں میں بھی گانجہ اور منشیات مفت دستیاب ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گانجہ اور منشیات کو اسکولوں میں لا کر بچوں کو برباد کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ہماری خواتین ہی بنیادی شکار بنتی ہیں،" ۔کویتا نے کہا کہ گھریلو تشدد کے واقعات منشیات اور گانجے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
ایکسائز اور محکمہ جنگلات کو ہتھیار سے لیس کرنے کی مانگ
کویتانے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکسائز اور محکمہ جنگلات کے عملے کو اسلحہ فراہم کیا جائے۔ وہ تربیت حاصل کرتے ہیں جس میں بندوق چلانا شامل ہے، لیکن انہیں ہتھیار فراہم نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس ہتھیار ہوتے تو گانجہ اور منشیات مافیا کو کم از کم کچھ خوف تو ہوتا۔