Wednesday, January 28, 2026 | 09, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • اردو یونیورسٹی کے طلبا نے شروع کی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال

اردو یونیورسٹی کے طلبا نے شروع کی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 27, 2026 IST

اردو یونیورسٹی کے طلبا نے شروع کی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) کے طلباء نے طویل عرصے سے ملتوی طلباء یونین کےانتخابات کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کردی ہے۔ ہڑتال  کی کال طلباء کے ایک اجتماع نے دی ہے اور منگل کو یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج شروع  کی گئی۔

'طلبا کے حقوق پر حملہ'

ریسرچ اسکالر اور اسٹوڈنٹ لیڈرایس انصاری نے کہا کہ سال بھر کئی بار نمائندگی  کی گئی اور بات چیت کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہاہے۔انہوں نے کہا۔"جب کہ اساتذہ اور عملے کی انجمنوں کے انتخابات کرائے جا چکے ہیں، طلباء کو نمائندگی کے جمہوری حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یہ منتخب طریقہ کار طلباء کے حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے، جس سے ہمارے پاس غیر معینہ مدت کے دھرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا،" 

'یونیورسٹی کو پولیس کاروائی کی دھمکی'

ایک اور طالب علم لیڈر رفیع اعظمی نے اس کی مذمت کی جسے انہوں نے انتظامیہ کی طرف سے ڈرایا دھمکایا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی پراکٹر نے پیر کی رات دیر گئے ایک نوٹس جاری کیا جس میں مبینہ طور پر کیمپس کے امن کو خراب کرنے والے طلباء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی گئی۔

پرامن احتجاج پر دھمکی کیوں؟

انہوں نے مزید کہا کہ "شروع سے ہی، ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہمارا احتجاج پرامن، جمہوری اور غیر خلل ڈالنے والا ہے، اس کے باوجود انتظامیہ مذاکرات میں شامل ہونے کے بجائے طلباء کو دھمکانے اور ڈرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہاہے۔"

 مطالبہ پورا ہونے تک ہڑتال جاری رہےگی 

احتجاج کرنے والے طلباء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک انتظامیہ طلباء یونین کے انتخابات کا باضابطہ اطلاع نہیں دیتاان کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکام کے ساتھ کوئی بھی بات چیت شفاف اور طلباء کی موجودگی میں ہونی چاہیے۔طلباء نے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ، سول سوسائٹی اور جمہوری آوازوں سمیت وسیع تر تعلیمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کیمپس میں طلباء کی نمائندگی اور جمہوری کام کاج کی بحالی کے ان کے جائز مطالبے کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوں۔
 
 واضح رہےکہ حال ہی میں طلبا نے یونیورسٹی کی زمین  حکومت کی جانب سے واپس لینے کےلئے دی گئی نوٹس پر بھی طلبا نے اپنا احتجاج درج  کر ایا تھا۔ طلبا نے  سیاسی لیڈروں سے  بھی ملاقات کرکے نمائندگی کی تھی۔