• News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • کھیساری لال یادو سخت سردی میں ایمس پہنچے اور ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کی

کھیساری لال یادو سخت سردی میں ایمس پہنچے اور ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 06, 2026 IST

کھیساری لال یادو سخت سردی میں ایمس پہنچے اور ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کی
بھوجپوری فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار کھیساری لال یادو دہلی کے AIIMS کے باہر شدید سردی میں ضرورت مند لوگوں میں کمبل تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جیسے ہی کھیساری لال یادو وہاں پہنچے، کمبل لینے کے لیے لوگوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ بڑی تعداد میں غریب اور ضرورت مند افراد وہاں موجود تھے۔ کئی لوگوں کو کمبل ملے، جبکہ بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو کمبل نہیں مل سکا۔ اس دوران کھیساری لال یادو نے ضرورت مندوں سے بات چیت بھی کی اور ان کے مسائل سنے۔
 
کمبل تقسیم کے دوران کھیساری لال یادو نے کہا کہ وہ اس طرح کی مدد اکثر کرتے رہتے ہیں۔ کسی کی مدد کرکے انہیں سکون اور خوشی ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیدھے ممبئی سے دہلی آئے ہیں اور اس سے پہلے بہار میں بھی ضرورت مندوں کو کمبل تقسیم کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدد کرنا ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس سے انہیں دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
 
انسانیت سب سے بڑا دھرم
 
اس موقع پر ان سے فیروزآباد میں سماج وادی پارٹی کے صدر شیو راج سنگھ یادو کے بیان سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ شیو راج سنگھ یادو نے PDA کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہندو نہیں بلکہ یادو ہیں، اور جو دھرم برابری کا حق نہیں دیتا، وہ اسے نہیں مانتے۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کھیساری لال یادو نے کہا کہ انسانیت سب سے بڑا دھرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام چرت مانس اور گیتا میں بھی سچ اور جھوٹ، دھرم اور ادھرم کی لڑائی کا ذکر ہے۔
انہوں نے کہا،آج سماج میں لوگ ہندو، مسلم، یادو اور برہمن کے نام پر آپس میں لڑ رہے ہیں، جبکہ اگر انسان پہلے ایک اچھا انسان بن جائے تو اس سے بہتر کوئی دھرم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی بار کچھ لوگ سیاسی فائدے کے لیے ایسے بیانات دیتے ہیں، اور یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ بیان کس اسٹیج اور کس صورتحال میں دیا گیا۔
 
صرف حکومت کے بھروسے بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا
 
دہلی میں سردی سے ہونے والی اموات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کھیساری لال یادو نے کہا کہ اگر کوئی صرف حکومت کے بھروسے بیٹھا رہے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا،اگر میں بھی حکومت کے بھروسے بیٹھا رہتا تو نہ گلوکار بن پاتا اور نہ ہی اداکار ان کے مطابق ہر شخص کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے اور سماج کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔
 
تیجسوی یادو پر سوال کا دلچسپ جواب
 
بہار کی سیاست سے جڑے ایک سوال پر، جب ان سے پوچھا گیا کہ بی جے پی بار بار یہ مسئلہ کیوں اٹھا رہی ہے کہ تیجسوی یادو غائب ہیں، اور کیا حال ہی میں ان سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو کھیساری لال یادو نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی میں ان کے اپنے لوگ ہیں۔ تیجسوی یادو سے ان کی آخری بات چیت الیکشن کے وقت ہوئی تھی، اس کے بعد نہ تیجسوی یادو کا کوئی فون آیا اور نہ ہی انہوں نے خود فون کیا۔