شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ نے اپنی بیٹی کے ہمراہ کئی راکٹ لانچنگ سسٹمز کے تجربات کی نگرانی کی ہے۔ یہ اقدام امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں فریڈم شیلڈ کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ مطابق کے شمالی کوریا نے 600 ملی میٹر راکٹ لانچرز کا تجربہ کیا، جبکہ جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے تقریباً 10 بیلسٹک میزائل بھی فائر کیے ہیں۔ کم جونگ اُن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار تقریباً 420 کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دشمنوں کو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت کا احساس دلائیں گے۔
ادھر یورپ میں بھی جنگی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق روس کی افواج نے اس عرصے میں 1770 حملہ آور ڈرون، 1530 سے زائد گائیڈڈ فضائی بم اور 86 میزائل داغے۔
زیلینسکی کے مطابق داغے گئے میزائلوں میں 20 سے زیادہ بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ روسی حملوں کا بنیادی ہدف یوکرین کے بنیادی ڈھانچے اور شہری علاقے ہیں۔
یوکرینی صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی فوجی اور تکنیکی مدد فراہم کرے تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیا اور یورپ دونوں خطوں میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی سلامتی کے لیے نئے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔