Saturday, April 04, 2026 | 15 شوال 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • ایل پی جی قلت سے پریشان مزدوروں کی گھروں کو واپسی

ایل پی جی قلت سے پریشان مزدوروں کی گھروں کو واپسی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 04, 2026 IST

ایل پی جی قلت سے پریشان مزدوروں کی گھروں کو واپسی
ملک میں ایل پی جی (گھریلو گیس) کی قلت نے بہار سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن مزدوروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مزدور اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پٹنہ کے دانا پور ریلوے اسٹیشن اور گیا ریلوے اسٹیشن پر ایسے کئی مزدور دیکھے گئے جو گجرات، دہلی اور دیگر ریاستوں میں کام کرنے کے بعد واپس اپنے گاؤں جا رہے تھے۔
 
مزدوروں کا کہنا ہے کہ شہروں میں ایل پی جی تک رسائی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ یا تو انہیں کم مقدار میں گیس والے سلنڈر فراہم کیے جا رہے ہیں یا پھر طویل انتظار کے بعد سلنڈر مل رہے ہیں، جس سے ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
 
دانا پور اسٹیشن پر موجود ایک مزدور نے بتایا کہ کھانا پکانے کے لیے گیس نہ ہونے کے باعث انہیں ہوٹلوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، لیکن وہاں کھانے کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو ان کے محدود وسائل کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اسی طرح گیا اسٹیشن پر بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بڑی تعداد میں مزدور اپنے سامان کے ساتھ گھروں کو واپس جاتے نظر آئے۔
 
یہ مسئلہ صرف بہار تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی اسی طرح کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مہاجر مزدور ایل پی جی کی قلت کے باعث واپس اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مزدوروں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ صنعتی اور خدماتی شعبوں پر بھی اثر ڈالنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
 
دوسری جانب حکومت نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث خام تیل اور ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عارضی قلت پیدا ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کو مستحکم بنانے اور ملک بھر میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
 
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے اور صارفین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم موجودہ حالات نے مزدور طبقے کی مشکلات کو اجاگر کر دیا ہے، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔