Saturday, April 04, 2026 | 15 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ–ایران کشیدگی میں شدت، جنگ بندی مسترد، ٹرمپ کا سخت بیان

امریکہ–ایران کشیدگی میں شدت، جنگ بندی مسترد، ٹرمپ کا سخت بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 04, 2026 IST

امریکہ–ایران کشیدگی میں شدت، جنگ بندی مسترد، ٹرمپ کا سخت بیان
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی جھڑپوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مبینہ طور پر امریکی فوجی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
 
ٹرمپ نے کہا کہ “ہم حالتِ جنگ میں ہیں”، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بیک وقت سفارتی رابطے اور عسکری سرگرمیاں جاری ہیں۔
 
اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اے-۱۰ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ A-10 ایک حملہ آور طیارہ ہے جو خاص طور پر زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور امریکی فضائیہ میں اہم کردار رکھتا ہے۔
 
دوسری جانب ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تجویز ایک نامعلوم ثالث کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئی تھی، تاہم ایران نے اسے مکمل طور پر رد کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس طرح کی کسی بھی تجویز سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
 
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر۔